LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

یونیورسٹی کی صفائی کرنے والی خاتون کا ماسٹر پروگرام میں داخلہ حاصل

Web Desk

9 June 2026

بیجنگ: چین کی ایک یونیورسٹی میں صفائی کے فرائض انجام دینے والی 33 سالہ خاتون اپنی غیر معمولی محنت، مروجہ عزم اور تعلیمی جذبے کے باعث سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہیں، جنہوں نے محض ایک سال سے بھی کم عرصے میں بغیر کسی مینوئل اکیڈمی کے، خود مطالعہ (Self-study) کر کے ماسٹر ڈگری پروگرام کے انتہائی مشکل قومی داخلہ امتحان میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس متاثر کن کامیابی کی مالک 33 سالہ خاتون “لی جیا” کا تعلق چین کے صوبے سیچوان کے شہر چینگڈو سے ہے، جو چینگڈو یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں کل وقتی (Full-time) کلینر کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ریسٹورنٹ کی بندش سے یونیورسٹی کلینر تک کا مینوئل سفرلی جیا کے تعلیمی سفر اور موجودہ پوزیشن کا مروجہ پس منظر درج ذیل ہے:کاروباری نقصان: لی جیا اور ان کے شوہر ماضی میں اسی یونیورسٹی کیمپس کے قریب ایک اچھا ریسٹورنٹ چلاتے تھے، تاہم شدید مالی مشکلات اور معاشی اتار چڑھاؤ کے باعث انہیں اپنا یہ مروجہ کاروبار بند کرنا پڑا۔نوکری کا انتخاب: ریسٹورنٹ بند ہونے کے بعد انہوں نے یونیورسٹی میں ہی صفائی کا کام شروع کر دیا۔ اس مینوئل ملازمت کے اوقات نسبتاً لچکدار (Flexible) تھے اور گھر کے قریب ہونے کی وجہ سے وہ اپنے بچوں کی دیکھ بھال بھی آسانی سے کر پاتی تھیں۔اسٹریٹ لائٹس میں پڑھتے طلبہ نے تقدیر بدل دیلی جیا نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا کہ یونیورسٹی میں صفائی کے مروجہ کام کے دوران انہیں اکثر قومی سطح کے داخلہ امتحانات کے امتحانی مراکز اور ہالز میں جانے کا موقع ملتا تھا۔ وہاں کے ماحول اور طلبہ کی مینوئل پوزیشن نے ان کی سوچ کا دھارا بدل دیا۔امتحانی مراکز کے مناظرلی جیا پر مرتب ہونے والے جنیون اثراتطلبہ کا اسٹریٹ لائٹس کی روشنی میں پڑھناپڑھائی کے لیے مروجہ لگن کا احساس ہوابڑی عمر کے افراد کی امتحانات میں مسلسل شرکتعمر کو تعلیم کی راہ میں رکاوٹ نہ سمجھنے کا عزم ملاقومی امتحانات کا مسابقتی ماحولاپنی ادھوری تعلیم کا مینوئل سفر دوبارہ شروع کرنے کی تحریک ملی