LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
کسی بھی دورے کے دوران مارکیٹیں اور کاروبار بند نہ کئے جائیں، مریم نواز کی حکام کو ہدایت امریکی انتخابات کے نتائج نے امریکا کو تاریخ میں کئی قدم پیچھے دھکیل دیا: ٹرمپ مصر میں مسافر ٹرین حادثہ، متعدد بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، 64 افراد زخمی غزہ میں بارشوں سے 70 ہزار خیمے زیر آب، ساڑھے 3 لاکھ بے گھر افراد متاثر ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم

4 سال کی عمر میں ریلوے اسٹیشن میں بچھڑ نے والا بچہ 24 سال بعد والد سے ملنے میں کامیاب

Web Desk

9 March 2026

بچپن میں اپنے خاندان سے بچھڑ جانے والا ایک نوجوان 24 سال بعد ڈی این اے ٹیسٹ کی مدد سے اپنے والد سے دوبارہ ملنے میں کامیاب ہو گیا۔

28 سالہ زینگ یون پنگ چار سال کی عمر میں 2001 میں چین کے صوبے لیاؤننگ کے ایک ریلوے اسٹیشن پر اپنے خاندان سے اس وقت بچھڑ گیا تھا جب اس کا ایک انکل اسے وہاں چھوڑ کر آئسکریم لینے گیا تھا۔ بعد ازاں وہ ایک حکومتی فلاحی مرکز پہنچ گیا جہاں اس کا نام شین ہوابی رکھ دیا گیا۔

2005 میں ایک کینیڈین جوڑے نے اسے گود لے لیا اور وہ کینیڈا منتقل ہو گیا، تاہم بعد میں اس جوڑے کی طلاق ہوگئی اور کسی نے بھی اس کی مکمل ذمہ داری نہیں لی۔ بعد ازاں اسے ایک اور خاندان کے ساتھ رہنے کے لیے بھیج دیا گیا جہاں بھی اس کی مناسب دیکھ بھال نہیں ہو سکی۔

زینگ کے خاندان سے بچھڑنے کے وقت اس کے والد جیل میں تھے جبکہ والدہ نے شوہر کو چھوڑ کر دوسری شادی کر لی تھی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد زینگ نے ملازمت شروع کی اور 2025 میں چین کے ایک ادارے بیبی ریٹرننگ ہوم سے رابطہ کیا جو بچپن میں بچھڑنے والے افراد کو ان کے خاندان سے ملانے میں مدد دیتا ہے۔

ادارے نے زینگ کے خون کے نمونے لے کر چین کے قومی ڈی این اے ڈیٹا بیس میں بھیجے، جس کے بعد چند دنوں میں اس کے والد کی شناخت ہو گئی۔ زینگ کے والد نے بتایا کہ 24 سال بعد جب انہوں نے بیٹے کی تصویر دیکھی تو فوراً پہچان گئے کیونکہ وہ بالکل ان جیسا دکھائی دیتا تھا۔

بیٹے سے ملاقات سے پہلے والد نے اسے 10 ہزار یوان بھی منتقل کیے۔ زینگ ابھی تک اپنی والدہ سے نہیں ملا کیونکہ وہ ایک دوسرے صوبے میں رہتی ہیں۔

زینگ اب کینیڈا کا شہری ہے اور ویزا مسائل کے باعث چند ہفتوں بعد واپس کینیڈا لوٹ جائے گا۔