LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا بار بار وعدہ خلافی کرتا، سفارتکاری بارے واشنگٹن کا رویہ نامناسب ہے: ایران جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس سپریم کورٹ کا حلف اٹھا لیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران پر حملے کا دفاع، دوبارہ بھی حملوں کا اعلان سعودی عرب نے طائف کی جانب داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کر دیا ایران کیخلاف جنگ میں امریکا کے اخراجات 47 ارب ڈالر سے متجاوز ایران کے 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم کا سراغ تاحال نہیں مل سکا، رافیل گروسی برطانیہ میں آر اے ایف فیئر فورڈ ایئربیس واقعے میں ملوث 2 افراد پر فرد جرم عائد فرانس نے سمندری نگرانی کرنے والا طیارہ عارضی طور پر رومانیہ منتقل کر دیا اسرائیل الیکشن، ایگزٹ پولز میں نیتن یاہو کے اتحاد کو معمولی برتری حاصل کولمبیا کے جنوب مغربی علاقے میں حملہ، 6 افراد ہلاک برازیل نے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے امریکی الزام کو مسترد کر دیا برطانیہ نے یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت کا امکان مسترد کر دیا سعودی ولی عہد کو قازقستان کے صدر کا تحریری مکتوب موصول اردن کا چرچ حملے کے بعد جنوبی شام پر فضائی حملہ، متعدد ہلاکتوں کا دعویٰ اردن کے فضائی حملے، شام نے سرحدی گزرگاہ بند کر دی

خواتین اچھی نیند کے باوجود خود کو زیادہ تھکا ہوا کیوں محسوس کرتی ہیں؟

Web Desk

23 June 2026

خواتین اکثر اچھی اور مناسب نیند لینے کے باوجود اپنی نیند کو مردوں کے مقابلے میں زیادہ خراب قرار دیتی ہیں—ایک نئی اور سائنسی تحقیق میں یہ دلچسپ انکشاف سامنے آیا ہے کہ خواتین کی نیند کی مانیٹرنگ کے بعد حقیقی نتائج کچھ اور تھے، لیکن ان کا اپنا احساس اور رائے بالکل مختلف تھی۔

محققین نے تحقیق کے دوران تقریباً 500 افراد کی نیند کا گہرا سائنسی مطالعہ کیا۔ اس دوران شرکا کی نیند کے دوران دماغی سرگرمی (Brain Activity)، سانس لینے کے عمل اور جسمانی حرکات کا جدید آلات کے ذریعے تفصیلی جائزہ لیا گیا، اور صبح ان سے ان کی رات کی نیند کے معیار سے متعلق رائے لی گئی۔سائنسی آلات کے ذریعے حاصل ہونے والی نیند کی اصل پیمائش (Objective Measurement) کے مطابق خواتین کئی بار مردوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر اور پرسکون نیند لے رہی تھیں، لیکن اس کے باوجود جب ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے اپنی نیند کو کم معیاری اور غیر تسلی بخش قرار دیا۔ سویڈن کے نامور کیرولنسکا انسٹیٹیوٹ کے پروفیسر ڈاکٹر ٹوربجورن آکرشٹڈ کے مطابق یہ ایک حیران کن تضاد ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر مرد رات کے دوران ہونے والی انتہائی مختصر بیداریوں (Micro-awakenings) کو محسوس ہی نہیں کرتے یا صبح تک بھول جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی نیند کے بارے میں زیادہ مثبت اور اچھی رائے رکھتے ہیں۔ تحقیق میں یہ ثابت ہوا کہ خواتین رات کے دوران جتنی بار بھی جاگیں، وہ صبح اس کا بالکل درست اندازہ لگانے میں کامیاب رہیں، جبکہ مرد اکثر اپنی رات کی مختصر بیداریوں کی تعداد کو بہت کم سمجھتے رہے۔محققین کے مطابق مردوں میں رات کو اچانک جاگنے کا دورانیہ عموماً بہت کم ہوتا ہے اور چند لمحوں کے لیے جاگنے کے بعد وہ دوبارہ گہری نیند سو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ اپنی نیند کو بہتر کہتے ہیں۔ جبکہ خواتین ان مختصر بیداریوں کو دماغی طور پر زیادہ محسوس کرتی ہیں اور اسی وجہ سے اپنی نیند کو خراب قرار دیتی ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ مردوں اور خواتین کی نیند کے ان تجربات کا یہ فرق مزید واضح اور نمایاں ہونے لگتا ہے۔

طبی ماہرین کا اس تحقیق کے بعد یہ نتیجہ اخذ کرنا ہے کہ نیند کا اچھا یا برباد ہونا صرف اس بات پر منحصر نہیں کہ انسان بستر پر کتنے گھنٹے سویا، بلکہ اس بات پر بھی گہرا اثر انداز ہوتا ہے کہ انسان کا دماغ رات کے دوران ہونے والی چھوٹی چھوٹی بیداریوں اور تبدیلیوں کو کس طرح محسوس کرتا ہے اور صبح تک انہیں کتنا یاد رکھتا ہے۔