LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مزید جنگی جہاز نہ بھیجا تو اسرائیل کے بجائے امریکی دفاع کے انتخاب پر مجبور ہوں گے: امریکی جنرل آزاد کشمیر کے پہلے مرحلے کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی، بائیکاٹ کی تجاویز مسترد کر کے میدان میں رہیں گے: ندیم افضل چن ڈی جی آئی ایس پی آر کی سمرانٹرن شپ 2026 میں طلبہ و طالبات کیساتھ خصوصی نشست نیویارک کے میئر زہران ممدانی نے CNN کے تازہ ترین پول میں ڈیموکریٹس کی تمام اعلیٰ قیادت کو پیچھے چھوڑ دیا بروڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے سے نامور کوہ پیما نرمل پرجا لاپتا ہونے کا خدشہ ایران میں تبدیلی سے مراد نظام کا خاتمہ نہیں، رویوں میں تبدیلی ہے: مارکو روبیو پاکستان کے 2 مزید کرکٹرز کا لنکا پریمئیر لیگ میں معاہدہ، شاہین شاہ آفریدی دستبردار پی این فلیٹ کلب سکواش: عاصم، نور، حمزہ اور ناصر کوارٹر فائنل میں بابر اعظم کی باکسر فاطمہ زہرا کو کانسی کا تمغہ جیتنے پر مبارکباد ماسکو: معروف ریستوران میں خودکش دھماکا، 3 افراد ہلاک، 21 زخمی اسرائیلی فوج کا جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے کئی ارکان شہید کرنے کا دعویٰ ٹرمپ کا ایران پر بڑے حملے کا منصوبہ مؤخر کرنے کا اعلان اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کا الخلیل کے قریب فلسطینیوں پر ایک اور حملہ غزہ سے انخلا پر اسرائیل میں سیاسی اختلافات، نیتن یاہو دباؤ کا شکار دہشت گرد اسرائیل کے نہتے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے جاری، مزید 7 فلسطینی شہید

کینیڈا کی مغربی کنارے پر کنٹرول بڑھانے کے اسرائیلی فیصلے کی مذمت

Web Desk

11 February 2026

امریکا کے بعد کینیڈا نے بھی مغربی کنارے پر کنٹرول بڑھانے کے اسرائیلی فیصلے کی مذمت کر دی ہے۔

کینیڈین وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی ریاست کا یہ اقدام بین الاقوامی قوانین اور عالمی اصولوں کے منافی ہے۔ بیان میں زور دیا گیا کہ مغربی کنارے کی حیثیت میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابل قبول ہے۔

کینیڈا نے خبردار کیا کہ اس اقدام سے خطے میں جاری امن کوششوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے اور کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

اس سے قبل وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے کی مخالفت کرتے ہیں۔ ان کے مطابق صدر کا مؤقف ہے کہ مغربی کنارے میں استحکام ہی اسرائیل کی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔

واضح رہے کہ مغربی کنارے کی صورتحال پر عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے اور متعدد ممالک اس معاملے پر فریقین سے تحمل اور سفارتی حل کی اپیل کر رہے ہیں۔