امید ہے اس بار ہماری کوئی سیٹ چوری نہیں ہوگی: بلاول بھٹو
Web Desk
1 June 2026
شگر: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پچھلی بار الیکشن میں ان کی 9 سیٹوں کو چوری کیا گیا تھا، تاہم انہیں امید ہے کہ اس بار ہماری کوئی بھی سیٹ چوری نہیں ہوگی۔
گلگت بلتستان کے علاقے شگر میں ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آج بھی ہمارا سب سے اہم مطالبہ یہی ہے کہ گلگت بلتستان میں صاف و شفاف الیکشن کروائے جائیں۔ انہوں نے کارکنوں اور عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو پولنگ اسٹیشنز سے فارم 45 اپنے ہاتھ میں لے کر واپس جانا ہے اور اس مہم میں میرا ساتھ دینا ہے، جبکہ فارم 47 کا بندوبست میں خود کروں گا۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے خطے کے سیاسی مستقبل اور حقوق پر بات کرتے ہوئے کہا پیپلز پارٹی کا بنیادی منشور ہی یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کو ان کا جائز اور آئینی حق دلوانا ہے اور یہاں کے غیور عوام کو حقِ حاکمیت دینا ہے۔ جب گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے انتخابات اسی وقت ہوں گے جب پورے پاکستان میں جنرل الیکشن ہوتے ہیں، تو پھر صحیح معنوں میں یہاں کے عوام کا حقِ حاکمیت یقینی ہو سکے گا۔ شگر کے عوام کے پاس واپس آیا ہوں کیونکہ 3 نسلوں سے یہاں کے عوام مسلسل پاکستان پیپلز پارٹی کا ساتھ دیتے آ رہے ہیں۔سازشیں ناکام: جو طاقتیں ہمیں سیاسی منظرنامے سے مٹانا چاہتی تھیں، یہاں کے مخلص عوام کی بدولت ان کی تمام سازشیں بری طرح ناکام ہوئیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے اپنے نانا اور پارٹی کے بانی شہید ذوالفقار علی بھٹو کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سب سے پہلے عوام کے حقوق کے لیے عملی جدوجہد کی اور پسماندہ طبقوں کو حقوق دلائے۔ انہوں نے کہا کہ قائدِ عوام نے پاکستان کو پہلا متفقہ آئین دیا، ملک کو ایٹمی طاقت بنا کر دنیا کے سامنے مضبوطی سے کھڑا کیا اور گلگت بلتستان کے کمزور طبقوں کا بڑھ چڑھ کر ساتھ دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ قائدِ عوام نے صرف ‘روٹی، کپڑا اور مکان’ کا نعرہ ہی نہیں لگایا تھا بلکہ اس پر عملی کام کر کے بھی دکھایا تھا۔
عوام سے ایک بار پھر سیاسی ساتھ مانگتے ہوئے چیئرمین پی پی پی کا کہنا تھا کہ شگر اور گلگت بلتستان کے عوام نے پیپلز پارٹی کو کبھی مایوس نہیں کیا۔ پچھلی بار بھی یہاں میرا پُرجوش استقبال کیا گیا تھا اور میں تو اس وقت پوری پی ڈی ایم (PDM) کو ناراض کر کے آپ لوگوں کے پاس پہنچا تھا۔
انہوں نے اسلام آباد کی سوچ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد والے سمجھتے ہیں کہ ہر چیز صرف ان کی ملکیت ہے، حالانکہ جو کام 90ء کی دہائی میں ہونا چاہیے تھا وہ 2015ء میں جا کر شروع کیا گیا۔ انہوں نے تھرکول منصوبے کی مثال دیتے ہوئے واضح کیا کہ تھرکول واحد منصوبہ ہے جہاں کا مکمل اختیار صوبے کے وزیرِ اعلیٰ کے پاس ہے، جس کا فائدہ پہلے تھرپارکر کے غریب عوام کو ہوا، پھر سندھ کو اور اب اس سے پورا پاکستان فائدہ اٹھا رہا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اگر شگر کے عوام کو ان کے اپنے وسائل پر مکمل اختیار دیا جائے گا تو یہ علاقہ معاشی طور پر بے پناہ ترقی کرے گا۔
متعلقہ عنوانات
بلوچستان: فتنہ الہندوستان سے وابستہ 9 دہشت گرد خواتین کے سر کی قیمتیں مقرر
28 August 2026
سانحہ پمز کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواست دائر
27 August 2026
خیبر پختونخوا کے مزید 32 سرکاری ہسپتال نجی شعبے کے حوالے کرنے کا فیصلہ
27 August 2026
نائن الیون کے ماسٹر مائنڈ خالد شیخ کے خلاف مقدمہ جون 2028 میں شروع ہوگا
27 August 2026
پنجاب کے بڑے سرکاری ہسپتالوں کے اطراف فائر ہائیڈرنٹس کی تنصیب کا حکم
27 August 2026
پاکستان اور کویت کے درمیان ‘پروٹوکول معاہدہ 2026’ پر دستخط
27 August 2026
بلوچستان کی صورتحال بارے دفاعی جائزہ اجلاس، سیف سٹی پروجیکٹ فعال کرنے کا فیصلہ
27 August 2026
وزیر خزانہ سے اسیاڈ گروپ کے وفد کی ملاقات، پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کا عزم
27 August 2026