LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران نے ہزاروں سینٹری فیوجز زیرِ زمین سرنگوں میں منتقل کر دیے: اسرائیل کا دعویٰ سعودی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کی تو بندوبست کرنا جانتے ہیں؛ ٹرمپ کی حوثیوں کو دھمکی پی ٹی آئی ناراض ارکان کا بیرسٹر گوہر کو خط، مائنس عمران خان کوششوں کا انکشاف ٹرمپ کا لبنان کی بھرپور حمایت کا اعلان، ابراہم معاہدوں میں مزید ممالک کی شمولیت کی پیشگوئی ایرانی وزیرِ داخلہ کی جی ایچ کیو آمد، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات پٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن کا کل سے ملک گیر ہڑتال کا اعلان پاکستان نے عالمی بانڈز کے لیے بینک کنسورشیم کا اعلان کر دیا نورین نیازی نے جو کچھ بولا یہ انکا ذاتی خیال ہے، پارٹی پالیسی کا حصہ نہیں: بیرسٹر گوہر اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات: نئی حلقہ بندیوں کا شیڈول جاری، یونین کونسلوں کی تعداد 130 کر دی گئی جوڈیشل کمیشن نے لاہور ہائیکورٹ کیلئے 10 نئے ججز کی تقرری کی منظوری دے دی این ڈی ایم اے کا 24 جولائی تک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ جاری گندم کی صورتحال پیچیدہ، تین صوبوں نے وفاق سے ذخائر مانگ لیے سپین کا شاندار استقبال، میڈرڈ کی سڑکوں پر 18 لاکھ سے زائد شائقین کا جشن ایران سے کشیدگی، امریکا کے پٹرولیم ذخائر 4 دہائیوں کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے کوئٹہ کے رہائشی کے ہاں 5 بچوں کی پیدائش، اہلخانہ میں خوشی کی لہر

اسلام آباد میں عورت مارچ کے دوران فرزانہ باری سمیت 14 افراد گرفتار

Web Desk

8 March 2026

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں عورت مارچ کے دوران پولیس نے گیارہ خواتین اور تین مردوں کو گرفتار کر لیا، گرفتار ہونے والوں میں سماجی کارکن فرزانہ باری بھی شامل ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق گرفتار افراد کو تحویل میں لینے کے بعد خواتین کو وویمن پولیس اسٹیشن منتقل کر دیا گیا ہے۔

اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔

پولیس کے مطابق دفعہ 144 کے تحت عوامی اجتماعات اور جلوسوں پر پابندی عائد ہے، تاہم اس کے باوجود عورت مارچ کے شرکا کی جانب سے اجتماع کیا گیا جس پر کارروائی کی گئی۔

ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عورت مارچ کے انعقاد کے لیے کوئی اجازت نامہ جاری نہیں کیا گیا تھا۔ انتظامیہ کے مطابق مظاہرین کی جانب سے سیکٹر ایف سکس سے ڈی چوک تک مارچ کا اعلان کیا گیا تھا۔

حکام کے مطابق شہر میں امن و امان برقرار رکھنے اور قانون کی عملداری یقینی بنانے کے لیے کارروائی کی گئی۔