LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایرانی وفد کا امریکاسے مذاکرات کیلیے اسلام آبادآنے کاامکان، برطانوی نیوزایجنسی ایرانی رہنماعقلمندہیں توایران کا مستقبل تابناک ہوسکتاہے، امریکی صدر مذاکرات سے خطے میں امن کوفروغ ملے گا، ڈارکا ایرانی وزیرخارجہ سے رابطہ مذاکرات میں بریک تھروہواتوایرانی قیادت سے ملاقات کرنا چاہوں گا، ٹرمپ وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت اجلاس، مذاکرات یقینی بنانے کاعزم امیدہے امریکا ایران مذاکراتی عمل جاری رہے گا، روس اسلام آباد مذاکرات کا دوسرا مرحلہ: وزیر داخلہ محسن نقوی اور ایرانی سفیر کی ملاقات جاپان میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 7.5 ریکارڈ، سونامی کا خطرہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فون: ناکہ بندی مذاکرات میں رکاوٹ ہے، روئٹرز کا دعویٰ پاک مصر مشق ’تھنڈر II‘ کامیابی سے مکمل، انسداد دہشتگردی تعاون مزید مضبوط پاکستان نے امن کیلئے کردار ادا کیا، امریکا ناقابلِ اعتماد، مذاکرات میں شرکت کا کوئی ارادہ نہیں: ایران چین کی بے مثال ترقی دنیا کیلئے ایک روشن مثال ہے: مریم نواز اسلام آباد مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ: وزیر داخلہ محسن نقوی کی امریکی سفیر سے ملاقات، سیکیورٹی انتظامات پر بریفنگ ایران کا امریکا کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ، غیر ضروری مطالبات ماننے سے انکار امریکا سے مذاکرات جاری، جنگ کیلئے بھی تیار ہیں: محمد باقر قالیباف

اسلام آباد میں عورت مارچ کے دوران فرزانہ باری سمیت 14 افراد گرفتار

Web Desk

8 March 2026

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں عورت مارچ کے دوران پولیس نے گیارہ خواتین اور تین مردوں کو گرفتار کر لیا، گرفتار ہونے والوں میں سماجی کارکن فرزانہ باری بھی شامل ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق گرفتار افراد کو تحویل میں لینے کے بعد خواتین کو وویمن پولیس اسٹیشن منتقل کر دیا گیا ہے۔

اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔

پولیس کے مطابق دفعہ 144 کے تحت عوامی اجتماعات اور جلوسوں پر پابندی عائد ہے، تاہم اس کے باوجود عورت مارچ کے شرکا کی جانب سے اجتماع کیا گیا جس پر کارروائی کی گئی۔

ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عورت مارچ کے انعقاد کے لیے کوئی اجازت نامہ جاری نہیں کیا گیا تھا۔ انتظامیہ کے مطابق مظاہرین کی جانب سے سیکٹر ایف سکس سے ڈی چوک تک مارچ کا اعلان کیا گیا تھا۔

حکام کے مطابق شہر میں امن و امان برقرار رکھنے اور قانون کی عملداری یقینی بنانے کے لیے کارروائی کی گئی۔