LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنوں کی ایم پی او کے تحت نظر بندی کے احکامات لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج عمران خان کی بہنوں اور بچوں کی حراست غیر قانونی ہے، شدید مذمت کرتے ہیں: شیخ وقاص اکرم سومنات کا حوالہ بار بار آنے کے لیے استعمال کیا، ہم پرامن رہیں گے: جنید اکبر کی وضاحت ایران رویہ بدلے تو مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے: مائیک والٹز علیمہ کے بعد نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی 30 روز کیلئے نظر بند اسلام آباد سومنات نہ جنید اکبر ہی محمود غزنوی، وفاق اپنا دفاع کرے گا: خواجہ آصف وزیراعظم جنرل اسمبلی میں کشمیر، فلسطین کے مسائل اٹھائیں گے: عاصم افتخار بلوچستان کے ضلع خضدار میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 4.5 ریکارڈ امریکا نے ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کی یقین دہانی کرائی ہے: قطر پائیدار امن کیلئے تشدد، نفرت اور انتہا پسندی کا خاتمہ ناگزیر ہے: مریم نواز شریف ہنگو میں شہید ہونے والے فوجی افسروں اور جوانوں کی نمازِ جنازہ ادا مصر، سوڈان اور اعلیٰ امریکی حکام کے سوڈان جنگ کے خاتمے کیلئے اہم مذاکرات ٹرمپ انتظامیہ نے عالمی عدالت کے خلاف مزید سخت اقدامات کی تیاری کر لی نیویارک دورے کے دوران صدر ٹرمپ کی میئر زہران ممدانی سے ملاقات متوقع کیف پر روسی ڈرون حملوں میں 3 بچوں سمیت 4 افراد ہلاک

شہزاد اکبر پر گھر پر حملہ، پولیس نے تحقیقات شروع کر دی

Web Desk

25 December 2025

شہزاد اکبر نے بتایا ہے کہ کل صبح تقریباً 8:08 بجے، ایک نامعلوم شخص نے ان کے گھر پر حملہ کیا جو تعمیراتی یا کچرا اٹھانے کے لباس میں ملبوس تھا۔ حملہ آور نے پوچھا، “کیا آپ شہزاد اکبر ہیں؟” اور فوراً حملہ شروع کر دیا۔ واقعہ ان کے اہلِ خانہ کی موجودگی میں پیش آیا۔

ایمرجنسی سروسز کو اطلاع دی گئی اور انہیں مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا۔ شہزاد اکبر کے چہرے پر زخم آئے، جس میں سوجن اور ناک کی ہڈی ٹوٹنے کی تصدیق ہوئی۔

پولیس نے معاملے کا نوٹس لے لیا ہے اور یقین دہانی کرائی ہے کہ اس ہدف بنا کر کیے گئے حملے کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ذمہ دار افراد کو گرفتار کیا جائے گا۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ جاری تحقیقات کے پیشِ نظر وہ سی سی ٹی وی فوٹیج یا تصاویر شیئر نہیں کر سکتے۔ انہوں نے برطانوی قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا اور برطانوی حکومت سے درخواست کی کہ انگلینڈ ہر شخص کے لیے محفوظ جگہ رہے، بشمول ایسے افراد جو اختلافِ رائے رکھتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایسے بزدلانہ حملے انہیں خاموش نہیں کر سکتے اور وہ بدعنوانی، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جمہوری اقدار کے زوال کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے۔

شہزاد اکبر نے واضح کیا کہ سوشل میڈیا پر ان کے زخمی ہونے کی کوئی تصویر گردش کر رہی ہے تو وہ جعلی اور مصنوعی (AI-generated) ہے۔