LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایچ آئی وی سے بچاؤ کی کم قیمت دوا، بڑی خبر آگئی ایران کا آپریشن نصر 2 میں 200 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ دنیا میں پہلی بار ایبولا کی نئی ویکسین کا انسانی ٹرائل شروع سمندر میں ڈوبے بازنطینی جہاز کے ملبے سے سونے کے زیورات دریافت ایران پر ناکہ بندی بدستور نافذ، 2 جہاز ناکارہ بنائے، 12 کا راستہ تبدیل کر دیا: امریکی فوج گوگل کا صارفین کے لئے نیا سکیورٹی فیچر متعارف امریکا نے آبنائے ہرمز میں 2 جہازوں کو ناکارہ بنا دیا، سینٹ کام ایران نے اسرائیل کو جنگ میں دوبارہ کودنے سے خبردار کر دیا عباس عراقچی کا کایا کلاس سے ٹیلی فونک رابطہ، ایرانی جہاز پر یوکرینی حملے کی مذمت جنوبی لبنان کے قصبے سے اسرائیلی فوج کا انخلا، ملبے تلے سے 4 افراد کی لاشیں برآمد جنوبی لبنان کے قصبوں پر اسرائیلی بمباری، نبطیہ میں زور دار دھماکا مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز کی صحافیوں پر آنسو گیس کی شیلنگ غزہ میں 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی بمباری سے کم از کم 7 فلسطینی شہید برطانیہ امریکا کی حمایت کرتا ہے تو وہ یقینی اور جائز ہدف بن جائے گا، ایران حالیہ ایرانی حملوں میں 200 سے زائد امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ترجمان پاسداران انقلاب

شہزاد اکبر پر گھر پر حملہ، پولیس نے تحقیقات شروع کر دی

Web Desk

25 December 2025

شہزاد اکبر نے بتایا ہے کہ کل صبح تقریباً 8:08 بجے، ایک نامعلوم شخص نے ان کے گھر پر حملہ کیا جو تعمیراتی یا کچرا اٹھانے کے لباس میں ملبوس تھا۔ حملہ آور نے پوچھا، “کیا آپ شہزاد اکبر ہیں؟” اور فوراً حملہ شروع کر دیا۔ واقعہ ان کے اہلِ خانہ کی موجودگی میں پیش آیا۔

ایمرجنسی سروسز کو اطلاع دی گئی اور انہیں مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا۔ شہزاد اکبر کے چہرے پر زخم آئے، جس میں سوجن اور ناک کی ہڈی ٹوٹنے کی تصدیق ہوئی۔

پولیس نے معاملے کا نوٹس لے لیا ہے اور یقین دہانی کرائی ہے کہ اس ہدف بنا کر کیے گئے حملے کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ذمہ دار افراد کو گرفتار کیا جائے گا۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ جاری تحقیقات کے پیشِ نظر وہ سی سی ٹی وی فوٹیج یا تصاویر شیئر نہیں کر سکتے۔ انہوں نے برطانوی قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا اور برطانوی حکومت سے درخواست کی کہ انگلینڈ ہر شخص کے لیے محفوظ جگہ رہے، بشمول ایسے افراد جو اختلافِ رائے رکھتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایسے بزدلانہ حملے انہیں خاموش نہیں کر سکتے اور وہ بدعنوانی، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جمہوری اقدار کے زوال کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے۔

شہزاد اکبر نے واضح کیا کہ سوشل میڈیا پر ان کے زخمی ہونے کی کوئی تصویر گردش کر رہی ہے تو وہ جعلی اور مصنوعی (AI-generated) ہے۔