LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ کی اردن میں فوجی اڈے پر کارروائی کے جواب میں ایران پر شدید حملوں کی دھمکی امریکا کو خطے میں محاصرے میں لیا جانا چاہئے: نائب سپیکر ایرانی پارلیمنٹ خلیجی ریاستوں کو نشانہ بنانے کی ایرانی پالیسی ناکام ہو چکی: انور قرقاش امریکی فوج نے آبنائے ہرمز میں ٹینکر کے بارودی سرنگ سے ٹکرانے کا دعویٰ مسترد کردیا اسرائیل اور یونان کے درمیان 3.5 ارب ڈالر کا دفاعی معاہدہ طے سندھ طاس معاہدہ, پاکستان کا عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم عظیم کشمیری رہنما سید علی گیلانی کی آج پانچویں برسی منائی جارہی ہے نیدرلینڈز میں سالانہ ریڈ ہیڈ فیسٹیول، دنیا بھر سے سرخ بالوں والے افراد کی شرکت پٹرول مزید مہنگا، ڈیزل کی قیمت میں ایک روپے 3 پیسے کمی کردی گئی اسحاق ڈار کی ترک ہم منصب یاشار گولر سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال وزیراعظم کی چھٹے ورلڈ نومیڈ گیمز کی افتتاحی تقریب میں شرکت، پرتپاک استقبال روس چین ویزا فری نظام مستقل کرنے پر تیار، صدر پوتن کا اعلان روس اور بیلاروس کے صدور کی ملاقات، تجارت اور عالمی امور پر گفتگو بات پکی ہوئی نہ منگنی، بلاول بھٹو بھی جعلی خبروں پر بول پڑے ایل پی جی کی قیمت میں 4 روپے 33 پیسے فی کلو اضافہ

شہزاد اکبر پر گھر پر حملہ، پولیس نے تحقیقات شروع کر دی

Web Desk

25 December 2025

شہزاد اکبر نے بتایا ہے کہ کل صبح تقریباً 8:08 بجے، ایک نامعلوم شخص نے ان کے گھر پر حملہ کیا جو تعمیراتی یا کچرا اٹھانے کے لباس میں ملبوس تھا۔ حملہ آور نے پوچھا، “کیا آپ شہزاد اکبر ہیں؟” اور فوراً حملہ شروع کر دیا۔ واقعہ ان کے اہلِ خانہ کی موجودگی میں پیش آیا۔

ایمرجنسی سروسز کو اطلاع دی گئی اور انہیں مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا۔ شہزاد اکبر کے چہرے پر زخم آئے، جس میں سوجن اور ناک کی ہڈی ٹوٹنے کی تصدیق ہوئی۔

پولیس نے معاملے کا نوٹس لے لیا ہے اور یقین دہانی کرائی ہے کہ اس ہدف بنا کر کیے گئے حملے کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ذمہ دار افراد کو گرفتار کیا جائے گا۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ جاری تحقیقات کے پیشِ نظر وہ سی سی ٹی وی فوٹیج یا تصاویر شیئر نہیں کر سکتے۔ انہوں نے برطانوی قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا اور برطانوی حکومت سے درخواست کی کہ انگلینڈ ہر شخص کے لیے محفوظ جگہ رہے، بشمول ایسے افراد جو اختلافِ رائے رکھتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایسے بزدلانہ حملے انہیں خاموش نہیں کر سکتے اور وہ بدعنوانی، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جمہوری اقدار کے زوال کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے۔

شہزاد اکبر نے واضح کیا کہ سوشل میڈیا پر ان کے زخمی ہونے کی کوئی تصویر گردش کر رہی ہے تو وہ جعلی اور مصنوعی (AI-generated) ہے۔