LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا؛ سپریم کورٹ نے’چرسیوں‘ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیدی امریکی فوج نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کردی مغرب میں جمہوریت اور مشرق میں کمیونزم ناکام، حل اسلامی نظام میں ہے: مولانا فضل الرحمٰن وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا تاریخی ٹیلیفونک رابطہ وزیراعظم نے کفایت شعاری اقدامات میں توسیع کی منظوری دے دی فیلڈ مارشل سے گھانا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف کی ملاقات، عسکری تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیر اعظم شہباز شریف نے دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ کردیا سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست سننے والا سنگل بنچ تحلیل اسحاق ڈار سے بحرینی ہم منصب کا رابطہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تبادلہ خیال جنگ سے بہتر بات چیت ہوتی ہے: بلاول بھٹو زرداری اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی وزیر دفاع خواجہ آصف سے ملاقات امریکا ایران مفاہمت کا خیر مقدم، پاکستان نے تاریخی کردار ادا کیا: صدر آصف زرداری پنجاب میں ذاتی جہاز کے لیے پیسے ہیں بنیادی ضروریات کے لیے نہیں ہیں,شہریار آفریدی بانی پی ٹی آئی کی شفا اسپتال منتقلی اور معالج تک رسائی کا کیس وکالت نامہ نہ ہونےسماعت ملتوی ملاقاتوں پر پابندی:سپریم کورٹ کا ہوم سیکریٹری پنجاب اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری

شہزاد اکبر پر گھر پر حملہ، پولیس نے تحقیقات شروع کر دی

Web Desk

25 December 2025

شہزاد اکبر نے بتایا ہے کہ کل صبح تقریباً 8:08 بجے، ایک نامعلوم شخص نے ان کے گھر پر حملہ کیا جو تعمیراتی یا کچرا اٹھانے کے لباس میں ملبوس تھا۔ حملہ آور نے پوچھا، “کیا آپ شہزاد اکبر ہیں؟” اور فوراً حملہ شروع کر دیا۔ واقعہ ان کے اہلِ خانہ کی موجودگی میں پیش آیا۔

ایمرجنسی سروسز کو اطلاع دی گئی اور انہیں مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا۔ شہزاد اکبر کے چہرے پر زخم آئے، جس میں سوجن اور ناک کی ہڈی ٹوٹنے کی تصدیق ہوئی۔

پولیس نے معاملے کا نوٹس لے لیا ہے اور یقین دہانی کرائی ہے کہ اس ہدف بنا کر کیے گئے حملے کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ذمہ دار افراد کو گرفتار کیا جائے گا۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ جاری تحقیقات کے پیشِ نظر وہ سی سی ٹی وی فوٹیج یا تصاویر شیئر نہیں کر سکتے۔ انہوں نے برطانوی قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا اور برطانوی حکومت سے درخواست کی کہ انگلینڈ ہر شخص کے لیے محفوظ جگہ رہے، بشمول ایسے افراد جو اختلافِ رائے رکھتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایسے بزدلانہ حملے انہیں خاموش نہیں کر سکتے اور وہ بدعنوانی، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جمہوری اقدار کے زوال کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے۔

شہزاد اکبر نے واضح کیا کہ سوشل میڈیا پر ان کے زخمی ہونے کی کوئی تصویر گردش کر رہی ہے تو وہ جعلی اور مصنوعی (AI-generated) ہے۔