LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
رواں سال خطبۂ حج 35 زبانوں میں نشر کیا جائے گا، سعودی حکومت وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ایک ہی ہفتے میں دوسری بار ایران پہنچ گئے؛ ایران امریکا مذاکرات پر اہم ملاقاتیں متوقع منتخب نمائندوں پر گولیاں چلائی گئیں، کے پی کے عوام کو دیوار سے نہ لگایا جائے؛ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی آئی ایم ایف مشن کے دورہ پاکستان میں توسیع؛ پیٹرولیم لیوی 100 روپے کرنے اور 430 ارب کے نئے ٹیکسوں کا مطالبہ فیفا فٹبال ورلڈ کپ 2026 کی آفیشل فٹبال کی پاکستان میں پہلی باضابطہ رونمائی، اسلام آباد میں شاندار تقریب مستحق و نادار افراد کو بروقت سہولیات کی فراہمی ترجیحات میں شامل ہے: وزیراعظم ڈی جی آئی ایس پی آر کی مختلف جامعات کے وائس چانسلرز، اساتذہ کیساتھ خصوصی نشست سلہٹ ٹیسٹ: بنگلادیش نے پاکستان کو شکست دے کر وائٹ واش کردیا رواں سال سمگلنگ میں 80 فیصد کمی ہوئی: وزیر مملکت طلال چودھری بجٹ 27-2026 کی تیاریاں: آئی ایم ایف اور ایف بی آر مذاکرات مکمل، 15,262 ارب روپے کا ریکارڈ ٹیکس ہدف مقرر پنجاب اور آذربائیجان کے درمیان اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران مثبت رجحان امریکہ ایران کیخلاف جھوٹی اور گمراہ کن معلومات پھیلا رہا ہے، ایرانی مشن امریکی صدر ٹرمپ کا ایران جنگ تیزی سے ختم کرنے کا اعلان ایران کی امریکا کو دوبارہ جارحیت پر سخت کارروائی کی وارننگ

ایک صدی سے زائد عرصہ تک استعمال کی جانے والی بیٹری متعارف

Web Desk

13 April 2026

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک ایسی حیرت انگیز ایجاد سامنے آئی ہے جس نے ‘بیٹری لائف’ کے تصور کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا ہے۔ امریکی کمپنی این آر ڈی (NRD) نے ایک ایسی سولڈ اسٹیٹ ایٹمی بیٹری تیار کی ہے جس کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ بغیر کسی دیکھ بھال یا چارجنگ کے ایک صدی (100 سال) سے زیادہ عرصے تک مسلسل بجلی فراہم کر سکتی ہے۔ یہ بیٹری خاص طور پر ان حساس الیکٹرانک آلات کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے جو ایسی جگہوں پر نصب ہوتے ہیں جہاں انسان کا بار بار پہنچنا یا مرمت کرنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔

اس انقلابی بیٹری کی خاص بات اس میں استعمال ہونے والا مادہ نکل-63 (Nickel-63) ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ‘بیٹا وولٹیک’ (Betavoltaic) ڈیزائن پر مبنی ہے، جو ایٹمی مادے سے خارج ہونے والی تابکاری (Radiation) کو براہ راست برقی رو (Electricity) میں تبدیل کر دیتی ہے۔ اگرچہ یہ بیٹری 5 سے 500 نینو واٹ جیسی معمولی بجلی پیدا کرتی ہے، لیکن یہ مقدار ان مخصوص سینسرز، ڈیٹا ریکارڈنگ سسٹمز اور سکیورٹی آلات کے لیے کافی ہے جنہیں مسلسل لیکن انتہائی کم توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ کمپنی کے سی ای او شیل الفیرو کے مطابق، یہ بیٹری اہم صنعتی اور ماحولیاتی مشنز کے لیے ایک ‘گیم چینجر’ ثابت ہوگی جہاں بیٹری کا فیل ہونا پورے سسٹم کی ناکامی کا باعث بنتا ہے۔

یہ بیٹری مستقبل میں مصنوعی ذہانت (AI) پر چلنے والے مانیٹرنگ پلیٹ فارمز اور خلائی مشنز میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کر سکتی ہے۔ اگرچہ اس کی 100 سالہ عمر کا دعویٰ نکل-63 کی طبعی خصوصیات پر مبنی ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ عام مارکیٹ میں دستیابی سے قبل اس کی کارکردگی کا آزادانہ لیبارٹریوں میں تجربہ کیا جانا ابھی باقی ہے۔ اس ایجاد نے یہ امید پیدا کر دی ہے کہ مستقبل میں ہمیں اپنے چھوٹے سمارٹ آلات کی بیٹریاں بار بار تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔