LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران میں صدر مسعود پزشکیان کی ہدایت پر انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا فیصلہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کی امید، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا زبردست تیزی پر اختتام سوئی گیس کا عید الاضحیٰ کے لیے نیا شیڈول جاری، صارفین کو سہولت دینے کا اعلان پاکستان میں گردشی قرض، غربت اور بے روزگاری میں اضافہ پٹرول پر مقررہ ہدف سے زیادہ لیوی وصول کی جا رہی ہے، قائمہ کمیٹی میں انکشاف رضوان کی کپتانی میں ٹیم بہتر نتائج نہ دے سکی، ہیڈ کوچ مائیک ہیسن امریکا ایران امن معاہدے کی توقع؛ خام تیل کی عالمی قیمتوں میں بڑی کمی امریکی صدر کا سعودی عرب، قطر اور پاکستان سمیت مسلم ممالک سے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کا مطالبہ 2سال میں پیٹرولیم لیوی سے 2 ہزار 725 ارب وصول، رقم آئی ایم ایف کے 2 قرض پروگراموں سے بھی زیادہ نکلی پاکستان کی پہلی شیڈو پالیسی دستاویزات جاری، نجی شعبے کی ترقی پر زور فیلڈ مارشل نے مذاکرات نتیجہ خیز بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا: امریکی ٹی وی اسلام آباد: وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملاقات پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی 15 دستاویزات پر دستخط امریکا کے ساتھ فریم ورک پر پہنچ گئے، وفد ابھی پاکستان بھیجنے کا ارادہ نہیں: ایران پاکستان اور چین کا قومی مفادات پر ایک دوسرے کی مکمل حمایت کا اعلان

ایک صدی سے زائد عرصہ تک استعمال کی جانے والی بیٹری متعارف

Web Desk

13 April 2026

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک ایسی حیرت انگیز ایجاد سامنے آئی ہے جس نے ‘بیٹری لائف’ کے تصور کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا ہے۔ امریکی کمپنی این آر ڈی (NRD) نے ایک ایسی سولڈ اسٹیٹ ایٹمی بیٹری تیار کی ہے جس کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ بغیر کسی دیکھ بھال یا چارجنگ کے ایک صدی (100 سال) سے زیادہ عرصے تک مسلسل بجلی فراہم کر سکتی ہے۔ یہ بیٹری خاص طور پر ان حساس الیکٹرانک آلات کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے جو ایسی جگہوں پر نصب ہوتے ہیں جہاں انسان کا بار بار پہنچنا یا مرمت کرنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔

اس انقلابی بیٹری کی خاص بات اس میں استعمال ہونے والا مادہ نکل-63 (Nickel-63) ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ‘بیٹا وولٹیک’ (Betavoltaic) ڈیزائن پر مبنی ہے، جو ایٹمی مادے سے خارج ہونے والی تابکاری (Radiation) کو براہ راست برقی رو (Electricity) میں تبدیل کر دیتی ہے۔ اگرچہ یہ بیٹری 5 سے 500 نینو واٹ جیسی معمولی بجلی پیدا کرتی ہے، لیکن یہ مقدار ان مخصوص سینسرز، ڈیٹا ریکارڈنگ سسٹمز اور سکیورٹی آلات کے لیے کافی ہے جنہیں مسلسل لیکن انتہائی کم توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ کمپنی کے سی ای او شیل الفیرو کے مطابق، یہ بیٹری اہم صنعتی اور ماحولیاتی مشنز کے لیے ایک ‘گیم چینجر’ ثابت ہوگی جہاں بیٹری کا فیل ہونا پورے سسٹم کی ناکامی کا باعث بنتا ہے۔

یہ بیٹری مستقبل میں مصنوعی ذہانت (AI) پر چلنے والے مانیٹرنگ پلیٹ فارمز اور خلائی مشنز میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کر سکتی ہے۔ اگرچہ اس کی 100 سالہ عمر کا دعویٰ نکل-63 کی طبعی خصوصیات پر مبنی ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ عام مارکیٹ میں دستیابی سے قبل اس کی کارکردگی کا آزادانہ لیبارٹریوں میں تجربہ کیا جانا ابھی باقی ہے۔ اس ایجاد نے یہ امید پیدا کر دی ہے کہ مستقبل میں ہمیں اپنے چھوٹے سمارٹ آلات کی بیٹریاں بار بار تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔