LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سعودی وزیر دفاع کے امریکی و فرانسیسی وزرائے دفاع سے رابطے، امن کیلئے اقدامات پر زور خلیجی ممالک کی مدینہ منورہ میں حوثی ڈرون حملے کی شدید مذمت مشرقِ وسطیٰ کشیدگی، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد سے زائد اضافہ فیئر فورڈ ایئر بیس سازش کی تحقیقات، 27 سالہ برطانوی ایرانی شہری گرفتار سعودی اتحادی افواج کا حوثیوں پر مدینہ منورہ کے طیبہ گرڈ سٹیشن پر ڈرون حملے کا الزام روس کا جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، کریملن دریائے سندھ کا پانی پینے کے قابل نہیں رہا: محکمہ آبپاشی نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ٹرمپ کیساتھ اچھے تعلقات، یوکرین تنازع حل کرنے کیلئے کوششوں پر شکرگزار ہیں: صدر پوتن کراچی ایئرپورٹ پر کسٹمز کی کارروائی، 60 لاکھ روپے کا سامان برآمد ملکی زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کا اضافہ ستمبر میں مہنگائی 1.27 فیصد بڑھ گئی، سالانہ شرح 10.26 فیصد ریکارڈ فیول سبسڈی سکیم سے 75 لاکھ سے زائد شہری مستفید، وزیراعظم نے حکومتی اقدامات کو سراہ لانگ مارچ معاملہ: حکومت اور اپوزیشن کے درمیان براہ راست رابطہ نابلس میں سیکڑوں اسرائیلی قبضہ گیروں کا حضرت یوسفؑ کے مزار پر حملہ ایپسٹین سے روابط ، ناروے کے وزیراعظم سمیت 11 وزراء پارلیمنٹ میں طلب

ٹرمپ کے غزہ منصوبے پر آرمی چیف جنرل عاصم منیر دباؤ کا شکار

Web Desk

17 December 2025

پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اپنے اختیارات میں غیر معمولی اضافے کے بعد ایک بڑے اور حساس امتحان کا سامنا ہے، کیونکہ امریکا پاکستان پر غزہ اسٹیبلائزیشن فورس کے لیے فوجی دستے فراہم کرنے پر زور دے رہا ہے، جس پر اندرونِ ملک شدید ردعمل کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر آئندہ چند ہفتوں میں واشنگٹن کا دورہ کر سکتے ہیں، جہاں ان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے چھ ماہ میں تیسری ملاقات متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں غزہ فورس کے معاملے پر تفصیلی بات چیت ہوگی۔

صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ منصوبے کے تحت مسلم ممالک پر مشتمل فورس غزہ میں عبوری استحکام، تعمیر نو اور معاشی بحالی کی نگرانی کرے گی، تاہم کئی ممالک اس مشن کو حماس کو غیر مسلح کرنے اور تنازع میں الجھنے کے خطرے کے باعث محتاط نظر آتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان دستے فراہم نہیں کرتا تو صدر ٹرمپ ناراض ہو سکتے ہیں، جبکہ فوجی شمولیت کی صورت میں پاکستان میں مذہبی اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے شدید احتجاج کا خطرہ ہے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اس سے قبل واضح کر چکے ہیں کہ پاکستان امن مشن پر غور تو کر سکتا ہے، مگر حماس کو غیر مسلح کرنا پاکستان کی ذمہ داری نہیں۔

رپورٹ کے مطابق جنرل عاصم منیر کو حالیہ آئینی ترامیم کے تحت غیر معمولی اختیارات، 2030 تک توسیع اور تاحیات قانونی تحفظ حاصل ہو چکا ہے، جس کے باعث فیصلہ سازی میں ان کا کردار مرکزی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔

ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ غزہ میں کسی بھی فوجی شمولیت کی صورت میں پاکستان میں امریکا اور اسرائیل مخالف جذبات ایک بار پھر سڑکوں پر آ سکتے ہیں، جو حکومت اور فوج کے لیے ایک نیا داخلی چیلنج بن سکتے ہیں۔