LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا؛ سپریم کورٹ نے’چرسیوں‘ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیدی امریکی فوج نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کردی مغرب میں جمہوریت اور مشرق میں کمیونزم ناکام، حل اسلامی نظام میں ہے: مولانا فضل الرحمٰن وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا تاریخی ٹیلیفونک رابطہ وزیراعظم نے کفایت شعاری اقدامات میں توسیع کی منظوری دے دی فیلڈ مارشل سے گھانا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف کی ملاقات، عسکری تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیر اعظم شہباز شریف نے دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ کردیا سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست سننے والا سنگل بنچ تحلیل اسحاق ڈار سے بحرینی ہم منصب کا رابطہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تبادلہ خیال جنگ سے بہتر بات چیت ہوتی ہے: بلاول بھٹو زرداری اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی وزیر دفاع خواجہ آصف سے ملاقات امریکا ایران مفاہمت کا خیر مقدم، پاکستان نے تاریخی کردار ادا کیا: صدر آصف زرداری پنجاب میں ذاتی جہاز کے لیے پیسے ہیں بنیادی ضروریات کے لیے نہیں ہیں,شہریار آفریدی بانی پی ٹی آئی کی شفا اسپتال منتقلی اور معالج تک رسائی کا کیس وکالت نامہ نہ ہونےسماعت ملتوی ملاقاتوں پر پابندی:سپریم کورٹ کا ہوم سیکریٹری پنجاب اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری

ٹرمپ کے غزہ منصوبے پر آرمی چیف جنرل عاصم منیر دباؤ کا شکار

Web Desk

17 December 2025

پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اپنے اختیارات میں غیر معمولی اضافے کے بعد ایک بڑے اور حساس امتحان کا سامنا ہے، کیونکہ امریکا پاکستان پر غزہ اسٹیبلائزیشن فورس کے لیے فوجی دستے فراہم کرنے پر زور دے رہا ہے، جس پر اندرونِ ملک شدید ردعمل کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر آئندہ چند ہفتوں میں واشنگٹن کا دورہ کر سکتے ہیں، جہاں ان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے چھ ماہ میں تیسری ملاقات متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں غزہ فورس کے معاملے پر تفصیلی بات چیت ہوگی۔

صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ منصوبے کے تحت مسلم ممالک پر مشتمل فورس غزہ میں عبوری استحکام، تعمیر نو اور معاشی بحالی کی نگرانی کرے گی، تاہم کئی ممالک اس مشن کو حماس کو غیر مسلح کرنے اور تنازع میں الجھنے کے خطرے کے باعث محتاط نظر آتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان دستے فراہم نہیں کرتا تو صدر ٹرمپ ناراض ہو سکتے ہیں، جبکہ فوجی شمولیت کی صورت میں پاکستان میں مذہبی اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے شدید احتجاج کا خطرہ ہے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اس سے قبل واضح کر چکے ہیں کہ پاکستان امن مشن پر غور تو کر سکتا ہے، مگر حماس کو غیر مسلح کرنا پاکستان کی ذمہ داری نہیں۔

رپورٹ کے مطابق جنرل عاصم منیر کو حالیہ آئینی ترامیم کے تحت غیر معمولی اختیارات، 2030 تک توسیع اور تاحیات قانونی تحفظ حاصل ہو چکا ہے، جس کے باعث فیصلہ سازی میں ان کا کردار مرکزی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔

ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ غزہ میں کسی بھی فوجی شمولیت کی صورت میں پاکستان میں امریکا اور اسرائیل مخالف جذبات ایک بار پھر سڑکوں پر آ سکتے ہیں، جو حکومت اور فوج کے لیے ایک نیا داخلی چیلنج بن سکتے ہیں۔