LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
صدر ٹرمپ نے امریکا ایران جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کردیا آبنائے ہرمز میں پھنسے ہزاروں ملاحوں کے لیے اقوام متحدہ کی مدد کی اپیل مذاکراتی ٹیم سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی ہدایات کے مطابق چل رہی ہے: ایران ایران کے ساتھ جھوٹے وعدے کیے گئے، روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف عمران خان کی بہنیں آج بھی ملاقات کیے بغیر واپس لوٹ گئیں ایران-امریکا مذاکرات: ایران کا جواب نہیں آیا، امریکی نائب صدر کا دورہ پاکستان مؤخر مذاکرات کے لیے وفد اسلام آبادبھیجنے کاابھی تک فیصلہ نہیں کیا، ایرانی وزارت خارجہ جنگ بندی میں توسیع نہیں چاہتا،ایران کے معاملے میں جلدبازی سے فیصلہ نہیں کروں گا، ٹرمپ امریکاوایران جنگ میں توسیع پر غورکریں، سفارتکاری کو موقع دیں، اسحاق ڈار ایران کی جانب سے امن مذاکرات میں شرکت کےلیے تصدیق کا انتظارہے، عطاتارڑ پاک بحریہ کا فضا سے سطح سمندر پر مار کرنے والے تیمور کروز میزائل کا کامیاب تجربہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں میں تیزی کیلئے نیا نظام منظور چینی سفیر کی اسحاق ڈار سے ملاقات: امریکہ ایران مذاکرات میں پاکستان کے کردار کی تعریف، مکمل اعتماد کا اظہار آئی ایم ایف کا شکنجہ مزید سخت: 11 نئی شرائط عائد، پاکستان کی 2027 تک اصلاحات مکمل کرنے کی یقین دہانی حج فلائٹ آپریشن میں تیزی، مزید 3510 عازمین آج سعودی عرب روانہ ہوں گے

ٹرمپ کے غزہ منصوبے پر آرمی چیف جنرل عاصم منیر دباؤ کا شکار

Web Desk

17 December 2025

پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اپنے اختیارات میں غیر معمولی اضافے کے بعد ایک بڑے اور حساس امتحان کا سامنا ہے، کیونکہ امریکا پاکستان پر غزہ اسٹیبلائزیشن فورس کے لیے فوجی دستے فراہم کرنے پر زور دے رہا ہے، جس پر اندرونِ ملک شدید ردعمل کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر آئندہ چند ہفتوں میں واشنگٹن کا دورہ کر سکتے ہیں، جہاں ان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے چھ ماہ میں تیسری ملاقات متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں غزہ فورس کے معاملے پر تفصیلی بات چیت ہوگی۔

صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ منصوبے کے تحت مسلم ممالک پر مشتمل فورس غزہ میں عبوری استحکام، تعمیر نو اور معاشی بحالی کی نگرانی کرے گی، تاہم کئی ممالک اس مشن کو حماس کو غیر مسلح کرنے اور تنازع میں الجھنے کے خطرے کے باعث محتاط نظر آتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان دستے فراہم نہیں کرتا تو صدر ٹرمپ ناراض ہو سکتے ہیں، جبکہ فوجی شمولیت کی صورت میں پاکستان میں مذہبی اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے شدید احتجاج کا خطرہ ہے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اس سے قبل واضح کر چکے ہیں کہ پاکستان امن مشن پر غور تو کر سکتا ہے، مگر حماس کو غیر مسلح کرنا پاکستان کی ذمہ داری نہیں۔

رپورٹ کے مطابق جنرل عاصم منیر کو حالیہ آئینی ترامیم کے تحت غیر معمولی اختیارات، 2030 تک توسیع اور تاحیات قانونی تحفظ حاصل ہو چکا ہے، جس کے باعث فیصلہ سازی میں ان کا کردار مرکزی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔

ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ غزہ میں کسی بھی فوجی شمولیت کی صورت میں پاکستان میں امریکا اور اسرائیل مخالف جذبات ایک بار پھر سڑکوں پر آ سکتے ہیں، جو حکومت اور فوج کے لیے ایک نیا داخلی چیلنج بن سکتے ہیں۔