LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاک بحریہ کا فضا سے سطح سمندر پر مار کرنے والے تیمور کروز میزائل کا کامیاب تجربہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں میں تیزی کیلئے نیا نظام منظور چینی سفیر کی اسحاق ڈار سے ملاقات: امریکہ ایران مذاکرات میں پاکستان کے کردار کی تعریف، مکمل اعتماد کا اظہار آئی ایم ایف کا شکنجہ مزید سخت: 11 نئی شرائط عائد، پاکستان کی 2027 تک اصلاحات مکمل کرنے کی یقین دہانی حج فلائٹ آپریشن میں تیزی، مزید 3510 عازمین آج سعودی عرب روانہ ہوں گے امریکا کا تجارتی جہاز پر قبضہ،ایران نے اقوام متحدہ میں شکایت درج کروا دی عالمی سفارت کاری کا مرکز اسلام آباد: ایران امریکہ مذاکرات کے لیے ریڈ زون سیل سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو مزید 1 ارب ڈالر کے فنڈز موصول پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر تیزی کا رجحان خیبرپختونخوا کابینہ کا آج ہونے والا اجلاس ملتوی ٹرمپ مذاکرات کی میز کو ہتھیار ڈالنے میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں: باقر قالیباف ایران سے ہونے والا معاہدہ جلد اور اوباما دور کے معاہدے سے بہتر ہوگا: امریکی صدر اسرائیل اور لبنان کے درمیان امن مذاکرات جمعرات کو واشنگٹن میں ہوں گے ریڈ زون کے اداروں میں 21 اپریل کو ورک فرام ہوم کا فیصلہ : نوٹیفکیشن جاری ایرانی وفد کا امریکاسے مذاکرات کیلیے اسلام آبادآنے کاامکان، برطانوی نیوزایجنسی

امریکا: خزانے کی تلاش میں نکلے خاندان کی قسمت کُھل گئی

Web Desk

10 January 2026

امریکا میں اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سیر کے لیے جانے والے ایک شخص کے ہاتھ غیر متوقع طور پر قیمتی خزانہ لگ گیا۔ آرکنساس اسٹیٹ پارکس کے مطابق یہ دلچسپ واقعہ پائیک کاؤنٹی میں واقع مشہور کریٹر آف ڈائمنڈز اسٹیٹ پارک میں پیش آیا، جہاں 41 سالہ جیمز وارڈ نے 30 دسمبر کو 2.09 قیراط وزنی کتھئی رنگ کا ہیرا دریافت کیا۔

ٹیکساس کے علاقے سائپریس سے تعلق رکھنے والے جیمز وارڈ اپنی اہلیہ الزبتھ وارڈ اور دو کم سن بیٹوں، 9 سالہ ایڈرین اور 7 سالہ آسٹن کے ساتھ پارک کی سیر کے لیے آئے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس پارک کا خیال دراصل ان کے سب سے چھوٹے بیٹے آسٹن نے پیش کیا تھا۔

الزبتھ وارڈ کے مطابق ایک دن گھر پر ٹی وی دیکھتے ہوئے آسٹن نے سوال کیا کہ آیا ٹیکساس یا اس کے آس پاس کوئی ایسی جگہ ہے جہاں وہ کرسٹل تلاش کر سکیں۔ اس پر انہوں نے فوراً سِری کے ذریعے تلاش کیا، جہاں انہیں کریٹر آف ڈائمنڈز اسٹیٹ پارک کے بارے میں معلوم ہوا۔
الزبتھ نے بتایا کہ انہوں نے یہ معلومات جیمز کو بھیجیں تو ان کا جواب تھا:
“یہ تو صرف چھ گھنٹے کی ڈرائیو ہے!”

یہ قیمتی ہیرا، جسے بعد ازاں ’وارڈ ڈائمنڈ‘ کا نام دیا گیا، تلاش کے دوسرے دن دریافت ہوا۔ پہلے دن سرد موسم اور طویل مشقت کے باعث خاندان خاصا تھک گیا تھا، تاہم 9 سالہ ایڈرین نے سب کو اگلے دن دوبارہ کوشش پر آمادہ کیا۔ قسمت نے مسکراہٹ بکھیری اور اسی دن انہیں یہ نایاب ہیرا مل گیا۔

یاد رہے کہ کریٹر آف ڈائمنڈز اسٹیٹ پارک دنیا کا واحد ایسا عوامی پارک ہے جہاں عام شہری قانونی طور پر ہیرے تلاش کر سکتے ہیں اور جو کچھ انہیں ملے، وہ ان کا ہی ہوتا ہے۔