LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
انمول عرف پنکی کا بھائی منشیات سمیت گرفتار ٹرمپ دو اہم سفارتی کامیابیوں کو تباہ کر کے امن کی بات کر رہے ہیں، ایرانی سفیر امریکی فوجیوں کی قربانی ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرے گی، پیٹ ہیگستھ جنگ مخالف تنظیموں کے اتحاد کا اسرائیلی مظالم کے خلاف وسطی لندن میں احتجاج خلیج عدن سے اغوا ہونیوالا بحری جہاز صومالیہ کی علاقائی سمندری حدود میں منتقل کر دیا گیا یورپی یونین اور خلیجی ممالک کا آبنائے ہرمز غیر مشروط طور پر کھولنے کا مطالبہ سعودی عرب کی کویت، بحرین اور اردن پر ایرانی حملوں کی سخت مذمت ایران کا شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا جنگی جرم ہے، سربراہ خلیج تعاون کونسل امریکا نے مفاہمت پر دستخط کی سیاہی خشک ہونے سے پہلے ہی ایران پر حملہ کر دیا، رضا عارف قومی اتحاد اور سپریم لیڈر کی رہنمائی ایران کا سب سے بڑا سرمایہ ہے، صدر پزشکیان ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی پر عمل درآمد سختی سے جاری ہے، سینٹ کام نورین نیازی کو این سی سی آئی اے کا نوٹس، 20 جولائی کو طلب کرلیا گلگت بلتستان، کے پی، آزاد کشمیر میں سیلاب کا خدشہ، الرٹ جاری ایرانی حملے میں اردن میں تعینات دو امریکی فوجی ہلاک، امریکا کی تصدیق اسحاق ڈار کی سیکرٹری خارجہ سے ملاقات، سفارتی سرگرمیوں کا جائزہ لیا

الزائمرز کے خلاف بڑی پیشرفت، نئی دوا نے سائنس دانوں کو پُرامید کر دیا

Web Desk

18 July 2026

سائنس دانوں نے الزائمر کی بیماری سے متعلق دماغی نقصان کو کم کرنے کے لیے ایک نئی تجرباتی دوا KCL-286 تیار کی ہے، جس نے ابتدائی تحقیق میں انتہائی حوصلہ افزا نتائج دکھائے ہیں۔ جرنل ‘ایف ای بی ایس اوپن بائیو’ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق، یہ دوا دماغی خلیوں میں ڈی این اے (DNA) کو پہنچنے والے نقصان کی مرمت کرنے اور سوزش کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے، جو الزائمر کے ابتدائی مراحل میں اہم ترین عوامل ہیں۔ چوہوں پر کیے گئے تجربات کے دوران اس دوا نے دماغی خلیوں کو نقصان سے بچانے اور بیماری کی رفتار سست کرنے میں مثبت اثرات دکھائے ہیں۔ تحقیق کے شریک مصنف اور کنگز کالج لندن کے پروفیسر جوناتھن کورکورن کے مطابق، یہ دوا صحت مند رضاکاروں پر فیز 1 (Phase 1) کا انسانی حفاظتی ٹرائل کامیابی سے مکمل کر چکی ہے اور اب الزائمر کے مریضوں پر کلینیکل ٹرائلز کے اگلے مرحلے کے لیے تیار ہے۔ تاہم، اس وقت اگلی آزمائش کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سائنسی نہیں بلکہ فنڈنگ کی کمی ہے، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ دوا کی حتمی افادیت اور حفاظت کی مکمل تصدیق کے لیے بڑے پیمانے پر آزمائشیں ضروری ہیں۔