LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیشنل جوڈیشل آٹومیشن کمیٹی کا اجلاس: مقدمات کی ای فائلنگ نافذ کرنے پر غور بانی پی ٹی آئی سے رفقاء کی ملاقات کا وقت ختم، کسی رہنما کو اجازت نہ مل سکی مالدیپ کی عوامی مجلس کے سپیکر کا جی ایچ کیو کا دورہ، فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات سیاسی لوگوں پر نٹ لانچر استعمال نہیں ہوتے، حکومت اپنی انا ختم کر کے بات سنے: بیرسٹر گوہر ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلیٹی کی اگلی قسط: اسٹیٹ بینک اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور مکمل غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے ٹرمپ امن کمیشن کا 2.45 ارب ڈالر کا منصوبہ پیش کراچی: فی تولہ سونا 5600 روپے سستا، قیمت 4 لاکھ 48 ہزار 336 روپے ہو گئی امریکی محکمہ خارجہ کا ویزہ فراڈ کی روک تھام کے لیے آن لائن ٹپ پورٹل کا قیام 27 ستمبر کو توڑ پھوڑ کی اجازت نہیں دیں گے، قانون شکنی پر آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا: آئی جی پنجاب شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشت گرد ہلاک کے پی پولیس ایکٹ پر تحفظات، یہ قانون سازی آئین کی خلاف ورزی ہے: طلال چودھری ڈاکٹر نجیب نقی آزاد جموں و کشمیر کے 23 ویں صدر منتخب ایران کو تباہ کرنے سے متعلق امریکی صدر کے بیانات غیر ذمہ دارانہ ہیں: ایرانی صدر اسلام آباد میں غیر ملکی باشندے کے گھر مسلح ڈکیتی، مقدمہ درج کوہاٹ پولیس لائنز حملہ: سی ٹی ڈی نے نیٹ ورک کا سراغ لگا لیا

امریکی فوجیوں کی قربانی ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرے گی، پیٹ ہیگستھ

Web Desk

18 July 2026

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے اردن میں قائم فوجی اڈے پر ایران کے بیلسٹک میزائل حملے کے نتیجے میں دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان بہادر جوانوں کی قربانی امریکا کے عزم کو خطے میں مزید مضبوط کرے گی۔ امریکی وزیر دفاع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹویٹر) پر امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے آفیشل بیان کو شیئر کرتے ہوئے اپنے پیغام میں لکھا: “محفوظ سفر، ہیروز! ان کی قربانی صرف ہمارے عزم کو مزید پختہ کرتی ہے۔”

واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے باضابطہ طور پر اعتراف کیا تھا کہ اردن میں ایران کی جانب سے کیے گئے بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کے دوران دفاعی کارروائی کرتے ہوئے اس کے 2 فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں، جبکہ ایک اہلکار اب بھی لاپتہ ہے۔ امریکی وزیر دفاع کے اس بیان کو خطے میں امریکی جارحانہ حکمتِ عملی کو برقرار رکھنے اور ایران کو سخت پیغام دینے کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔