LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
چین میں زلزلے سے سینکڑوں مکان منہدم، 16 افراد ہلاک، پاکستان کی مدد کی پیشکش شوہر نے فٹبال میچ دیکھنے کی خاطر بیوی کو کرسی سے باندھ دیا بلوچستان کے شہر دالبندین اور ملحقہ علاقوں میں 5.1 شدت کا زلزلہ امریکی صدر ٹرمپ نے جلد ہی ایران پر دوبارہ حملہ کرنے کا اشارہ دے دیا نیویارک انتخابات: ووٹر رجسٹریشن کی آخری تاریخ 24 اکتوبر، All About USA کی جانب سے رہنما ووٹر گائیڈ جاری نیویارک میں سینٹرل پارک کی تاریخی بگھیوں پر پابندی کا بل منظور، 2028 میں صنعت کا خاتمہ ہوگا کینیڈا اور ترکیہ میں دوطرفہ تعلقات کو سٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل کرنے کا معاہدہ طے غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں اور فائرنگ سے مزید 4 فلسطینی شہید سعودی معیشت پر حوثیوں کے حملوں کے اثرات فی الحال محدود ہیں، آئی ایم ایف جماعت اسلامی کا آج ملک کے 150 شہروں میں بیک وقت احتجاج اور دھرنوں کا اعلان روس نے اسرائیل کے ماسکو پر یہود دشمن مہم میں ملوث ہونے کے الزامات مسترد کر دیے یوکرین کیساتھ معاہدہ ممکن، روس کو میدان جنگ میں شکست نہیں دی جا سکتی: صدر پوتن دمام ایئرپورٹ پر حوثی حملے میں جاں بحق افراد کی تعداد 2 ہوگئی پیوٹن کو انسان دوست قرار دینے پر زیلنسکی کی اسٹیو وٹکوف پر تنقید یمنی فوج کے 780 فضائی اور فوجی حملے، 512 حوثی باغی ہلاک اور زخمی

امریکی فوجیوں کی قربانی ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرے گی، پیٹ ہیگستھ

Web Desk

18 July 2026

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے اردن میں قائم فوجی اڈے پر ایران کے بیلسٹک میزائل حملے کے نتیجے میں دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان بہادر جوانوں کی قربانی امریکا کے عزم کو خطے میں مزید مضبوط کرے گی۔ امریکی وزیر دفاع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹویٹر) پر امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے آفیشل بیان کو شیئر کرتے ہوئے اپنے پیغام میں لکھا: “محفوظ سفر، ہیروز! ان کی قربانی صرف ہمارے عزم کو مزید پختہ کرتی ہے۔”

واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے باضابطہ طور پر اعتراف کیا تھا کہ اردن میں ایران کی جانب سے کیے گئے بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کے دوران دفاعی کارروائی کرتے ہوئے اس کے 2 فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں، جبکہ ایک اہلکار اب بھی لاپتہ ہے۔ امریکی وزیر دفاع کے اس بیان کو خطے میں امریکی جارحانہ حکمتِ عملی کو برقرار رکھنے اور ایران کو سخت پیغام دینے کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔