LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ملکی ترقی کا راز مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹلائزیشن میں مضمر ہے: شہباز شریف سپین میں دو تیز رفتار ٹرینیں آپس میں ٹکرا گئیں، 30 افراد ہلاک وزیراعلیٰ مریم نواز کے کاشتکاروں کیلئے بڑے اعلانات، اپنا کسان بینک قائم کرنے کا فیصلہ پی سی بی اور الائیڈ بینک میں سکولز ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کیلئے 10 کروڑ روپے کا معاہدہ امریکا مڈٹرم الیکشن کے بعد ایران پر بڑے حملے کیلئے تیار، خلیجی ممالک کو آگاہ کر دیا ماسکو میں گیس برآمد کرنیوالے ممالک کے آٹھویں سربراہی اجلاس کا اعلامیہ منظور جام کمال خان کا دوحہ میں پاکستانی مصنوعات کے ایکسپورٹ ڈسپلے سینٹر کا افتتاح مولانا فضل الرحمٰن کی راجہ ناصر عباس اور پی ٹی آئی وفد سے ملاقات کمانڈر کویت نیول فورس کی نیول ہیڈکوارٹرز آمد، نیول چیف سے ملاقات 9 مئی کیس: سہیل آفریدی سمیت پانچ ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری پاکستان ہاکی فیڈریشن کا ملک بھر میں اسکولز ہاکی لیگ شروع کرنےکا فیصلہ ایبٹ آباد پبلک سکول کے مسائل حل کرنے کیلئے مؤثر اقدامات کیے جائیں، گورنر فیصل کریم الیکشن کمیشن کا خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا حکم: انتخابی شیڈول مانگ لیا گیا ایران کا قطر سے ثالثی کے تقاضوں پر عمل اور محتاط بیانات کا مطالبہ گورنر راج کا مقصد معدنی ذخائر پر قبضہ ہے، ملک کسی جرنیل کی جاگیر نہیں:مولانا فضل الرحمان

انسانی اعضا اور پلیسینٹا کی غیر قانونی خرید و فروخت کیس میں چینی باشندوں سمیت ملزمان کی ضمانتیں خارج

Web Desk

17 July 2026

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے انسانی اعضا کی غیر قانونی خرید و فروخت کے مقدمے میں ملوث ملزمان محمد وقاص، لی گانگکائی، وانگ باؤ اور پینگ فی گو کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواستیں خارج کرنے کا تفصیلی تحریری حکمنامہ جاری کر دیا ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ کی جانب سے جاری کردہ حکمنامے کے مطابق، ایف آئی اے (FIA) نے اسلام آباد میں ایک چھاپے کے دوران بڑی مقدار میں انسانی اعضا اور پلیسینٹا (Placenta) برآمد کیا تھا۔ عدالتی فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ فرانزک رپورٹ کے مطابق برآمد شدہ پلیسینٹا میں انسانی ڈی این اے (DNA) کی موجودگی ثابت ہوئی ہے، اور چونکہ پلیسینٹا انسانی جسم کا حصہ ہے، اس لیے اس کی غیر قانونی تجارت ایک انتہائی سنگین معاملہ ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید تحریر کیا کہ پلیسینٹا عام طور پر بیوٹی کریموں، اینٹی ایجنگ مصنوعات اور پلاسٹک سرجری کے انجیکشنز میں استعمال ہوتا ہے، اور اتنی بڑی مقدار میں اس کی برآمدگی واضح طور پر غیر قانونی سرگرمیوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ عدالت نے مقدمے کو بادی النظر میں انتہائی سنگین نوعیت کا قرار دیتے ہوئے ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں کو مسترد کر دیا۔