LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
گورنر راج کا مقصد معدنی ذخائر پر قبضہ ہے، ملک کسی جرنیل کی جاگیر نہیں:مولانا فضل الرحمان جماعت اسلامی کا اسلام آباد مارچ نومبر کے وسط میں ہوگا: حافظ نعیم اسرائیلی انتخابات کے بعد حکومت سازی کی دوڑ، نیتن یاہو اور اپوزیشن کے متضاد دعوے جسٹس محسن اختر کیانی مستعفی: 26 ویں و 27 ویں آئینی ترامیم سے عدلیہ کی آزادی متاثر ہوئی، متن ایران کے جوہری پروگرام پر تنازع کا حل صرف سفارت کاری ہے: چین نو ماہ میں 5,143 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 2,410 دہشت گرد ہلاک اور 3,518 گرفتار: محسن نقوی کی ایوان میں رپورٹ خیبرپختونخوا پولیس کا ڈرون اور اینٹی ڈرون نظام سیف سٹی سے منسلک امریکا بار بار وعدہ خلافی کرتا، سفارتکاری بارے واشنگٹن کا رویہ نامناسب ہے: ایران جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس سپریم کورٹ کا حلف اٹھا لیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران پر حملے کا دفاع، دوبارہ بھی حملوں کا اعلان سعودی عرب نے طائف کی جانب داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کر دیا ایران کیخلاف جنگ میں امریکا کے اخراجات 47 ارب ڈالر سے متجاوز ایران کے 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم کا سراغ تاحال نہیں مل سکا، رافیل گروسی برطانیہ میں آر اے ایف فیئر فورڈ ایئربیس واقعے میں ملوث 2 افراد پر فرد جرم عائد فرانس نے سمندری نگرانی کرنے والا طیارہ عارضی طور پر رومانیہ منتقل کر دیا

صحت کے شعبے میں اے آئی ٹیکنالوجی متعارف کرانے کا فیصلہ

Web Desk

16 July 2026

وفاقی حکومت نے وزیراعظم صحت کارڈ پروگرام کے تحت کینسر، دماغی امراض اور دیگر پیچیدہ بیماریوں کی تیز رفتار اور درست تشخیص کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) سے استفادہ کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، اس جدید انقلابی منصوبے کے نفاذ سے ملک کے تقریباً 20 کروڑ شہریوں کو فائدہ پہنچے گا، جبکہ تشخیصی اخراجات کی مد میں سالانہ اربوں روپے کی بچت متوقع ہے۔ منصوبے کے تحت اسلام آباد، پنجاب، خیبرپختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے 1100 سے زائد سرکاری و نجی ہسپتالوں میں اے آئی سسٹم نافذ کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں وزیراعظم نے علی بابا گروپ کے سربراہ کو پاکستان آنے کی باضابطہ دعوت دے دی ہے، اور اگلے ماہ دونوں فریقین کے درمیان باقاعدہ معاہدہ متوقع ہے۔ واضح رہے کہ صحت کارڈ پروگرام پر اس وقت وفاق سالانہ 10 ارب، پنجاب 60 ارب، بلوچستان 10 ارب جبکہ خیبرپختونخوا کا صحت سہولت پروگرام 40 ارب روپے سے زائد کے سالانہ اخراجات برداشت کر رہا ہے۔