LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران، امریکا اختلافات برقرار، جنگ بندی میں توسیع اور ابتدائی ڈیل کی امید آبنائے ہرمز کی بحالی : پاسدارانِ انقلاب کی جہازوں کے لیے نئی شرائط پاکستان اور ارجنٹائن فٹبال ٹیموں کے درمیان فرینڈلی میچ کی تیاریاں وزیراعظم نے ڈیزل کی قیمت میں 32روپے12پیسے فی لٹرکمی کی منظوری دے دی ایران کا آبنائے ہرمزمکمل طورپر کھولنے کا اعلان ، وزیر خارجہ عراقچی کابڑا اعلان وزیراعظم اور ترک صدرکی ملاقات، اسٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط بنانے کا عزم پاکستان کاشکریہ، وزیراعظم اور فیلڈمارشل زبردست شخصیات ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدرکا آبنائے ہرمز مکمل کھولنے پر ایران کا شکریہ، بحری ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان آبنائے ہرمزکھلنے کے ثمرات، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں بڑی کمی انطالیہ میں وزیراعظم سے امریکی صدرکے سینئر مشیرکی ملاقات پاکستانی پرچم والے آئل ٹینکر نےآبنائے ہرمز عبورکرلی، امریکی جریدے کی رپورٹ پن بجلی کی پیداوار میں اضافہ ،لوڈ شیڈنگ میں کمی ہوئی ہے: پاور ڈویژن کا دعویٰ صدر آصف زرداری کا لبنان جنگ بندی کا خیرمقدم، خطے میں امن مذاکرات پر زور فیصل کریم کنڈی سے برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیراعظم شہباز شریف کا لبنان میں جنگ بندی کا خیرمقدم، صدر ٹرمپ کی سفارتی کوششوں کی تعریف

مصنوعی ذہانت کی غلطی، خاتون کو چھ ماہ قید کاٹنی پڑگئی

Web Desk

15 April 2026

امریکا میں چہرہ پہچاننے والے ایک اے آئی (AI) سافٹ ویئر کی تکنیکی غلطی نے ایک 50 سالہ خاتون، اینجلا لِپس کی زندگی اجیرن کر دی، جنہیں بینک فراڈ کے ایک ایسے کیس میں 6 ماہ جیل میں گزارنے پڑ گئے جس سے ان کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ اینجلا کو گزشتہ برس جولائی میں اس وقت گرفتار کیا گیا جب نارتھ ڈیکوٹا کی پولیس نے مصنوعی ذہانت کے ایک آلے کے ذریعے بینک کی سرویلیئنس ویڈیو کا تجزیہ کیا۔ سافٹ ویئر نے غلطی سے اینجلا کو اس ملزمہ کے طور پر شناخت کیا جس نے جعلی ملٹری کارڈ استعمال کر کے بینک سے ہزاروں ڈالر نکلوائے تھے۔

تحقیقات کے دوران پولیس کے ایک ڈیٹیکٹیو نے اے آئی کی فراہم کردہ تصویر کا اینجلا کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ڈرائیور لائسنس سے موازنہ کر کے اس کی تصدیق کی، تاہم حیران کن طور پر خاتون کی ذاتی طور پر شناخت کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں تھا۔ مقامی رپورٹس کے مطابق، اینجلا لِپس کو ٹینیسی کی ایک کاؤنٹی جیل میں 108 دن گزارنے کے بعد نارتھ ڈیکوٹا کے افسران سے ملنے کا موقع ملا، جبکہ مجموعی طور پر انہیں اس عدالتی اور پولیس کی غلطی کی وجہ سے تقریباً آدھا سال سلاخوں کے پیچھے رہنا پڑا۔

یہ واقعہ جدید ٹیکنالوجی پر حد سے زیادہ انحصار اور اس کے نتیجے میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ایک نئی بحث چھیڑ رہا ہے۔ قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے علمبرداروں نے اس واقعے کو “سائبر ناانصافی” قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اے آئی کے نتائج کو حتمی ماننے کے بجائے روایتی اور ٹھوس تفتیش پر توجہ دینی چاہیے۔ اینجلا لِپس کے وکیل کا کہنا ہے کہ یہ سافٹ ویئر کی نااہلی اور انسانی غلطی کا ایک ایسا امتزاج ہے جس نے ایک بے گناہ شہری کی آزادی سلب کر لی۔