LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سعودی عرب نے بھی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانے کا الزام ایران پر عائد کر دیا ائیل ٹینکروں پر حملہ: امریکا نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت انتہائی خطرناک قرار دیدی امریکا مذاکرات کو ناکامی کی طرف لے جائے گا: محسن رضائی امریکا نے ایرانی تیل کی فروخت کی اجازت دینے والا لائسنس منسوخ کردیا ایران نے آبنائے ہرمز میں قطری جہاز پر حملے کے الزام کو مسترد کر دیا آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا، برطانوی میری ٹائم ایجنسی ایران کے خلاف طاقتور حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے، امریکی سینٹرل کمانڈ ایران میں قشم جزیرے، سیریک، بندر عباس میں دھماکے سنے گئے: ایرانی میڈیا ترکیہ سے پابندیاں ہٹانے جارہے ہیں، ہم دوستوں پر پابندیاں نہیں لگاتے: ڈونلڈ ٹرمپ ایشیا کپ 2027ء کیلئے ڈھاکا سمیت وینیوز زیر غور ہیں، بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو طیارہ لاپتا ہوگیا جس کی تلاش شروع کر دی گئی۔ بلاول بھٹو کی گلگت بلتستان کی نومنتخب حکومت کو 100 روزہ ترقیاتی پلان تیار کرنے کی ہدایت وفاقی وزیر احسن اقبال کا یونیورسٹی آف الینوائے شکاگو کا دورہ، جناح میڈیکل کمپلیکس اور پی کے ایل آئی کے ساتھ طبی و تحقیقی تعاون پر تبادلہ خیال سندھ میں پاکستان رینجرز کی تعیناتی میں مزید ایک سال کی توسیع، صوبائی کابینہ نے منظوری دے دی خاتون کی جان بچاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرنے والے گروپ کیپٹن عاصم طارق کی نمازِ جنازہ ادا، فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک

مصنوعی ذہانت کی غلطی، خاتون کو چھ ماہ قید کاٹنی پڑگئی

Web Desk

15 April 2026

امریکا میں چہرہ پہچاننے والے ایک اے آئی (AI) سافٹ ویئر کی تکنیکی غلطی نے ایک 50 سالہ خاتون، اینجلا لِپس کی زندگی اجیرن کر دی، جنہیں بینک فراڈ کے ایک ایسے کیس میں 6 ماہ جیل میں گزارنے پڑ گئے جس سے ان کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ اینجلا کو گزشتہ برس جولائی میں اس وقت گرفتار کیا گیا جب نارتھ ڈیکوٹا کی پولیس نے مصنوعی ذہانت کے ایک آلے کے ذریعے بینک کی سرویلیئنس ویڈیو کا تجزیہ کیا۔ سافٹ ویئر نے غلطی سے اینجلا کو اس ملزمہ کے طور پر شناخت کیا جس نے جعلی ملٹری کارڈ استعمال کر کے بینک سے ہزاروں ڈالر نکلوائے تھے۔

تحقیقات کے دوران پولیس کے ایک ڈیٹیکٹیو نے اے آئی کی فراہم کردہ تصویر کا اینجلا کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ڈرائیور لائسنس سے موازنہ کر کے اس کی تصدیق کی، تاہم حیران کن طور پر خاتون کی ذاتی طور پر شناخت کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں تھا۔ مقامی رپورٹس کے مطابق، اینجلا لِپس کو ٹینیسی کی ایک کاؤنٹی جیل میں 108 دن گزارنے کے بعد نارتھ ڈیکوٹا کے افسران سے ملنے کا موقع ملا، جبکہ مجموعی طور پر انہیں اس عدالتی اور پولیس کی غلطی کی وجہ سے تقریباً آدھا سال سلاخوں کے پیچھے رہنا پڑا۔

یہ واقعہ جدید ٹیکنالوجی پر حد سے زیادہ انحصار اور اس کے نتیجے میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ایک نئی بحث چھیڑ رہا ہے۔ قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے علمبرداروں نے اس واقعے کو “سائبر ناانصافی” قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اے آئی کے نتائج کو حتمی ماننے کے بجائے روایتی اور ٹھوس تفتیش پر توجہ دینی چاہیے۔ اینجلا لِپس کے وکیل کا کہنا ہے کہ یہ سافٹ ویئر کی نااہلی اور انسانی غلطی کا ایک ایسا امتزاج ہے جس نے ایک بے گناہ شہری کی آزادی سلب کر لی۔