LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نئے صوبوں کا معاملہ قومی مشاورت سے حل ہونا چاہیے: چودھری شجاعت حسین افغانستان پاکستان کیخلاف دہشت گردی کا اہم مرکز بن چکا ہے: واشنگٹن پوسٹ یمن میں حکومتی فورسز اور حوثی جنگجوؤں میں جھڑپوں سے 76 ہزار افراد بے گھر روسی حملوں میں شدت، رواں سال انتہائی مشکل موسم سرما کا سامنا ہو سکتا ہے: یوکرینی حکام ورلڈ الٹیمیٹ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ، ارشد ندیم میڈل کی دوڑ سے باہر 20 ستمبر کا لانگ مارچ ملکی سیاست کا رخ بدل دے گا: حافظ نعیم الرحمٰن ایران کے ساتھ جنگ مڈٹرم انتخابات کے بعد ختم ہوجائے گی: ٹرمپ کا دعویٰ عراق کا ایران کے ساتھ 3 سرحدی گزرگاہوں پر آمدورفت بحال کرنے کا اعلان سعودی آئل پائپ لائن پر ڈرون حملہ، عراقی فورسز نے لانچنگ سائٹ کا سراغ لگا لیا وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کا ٹیلیفونک رابطہ، علاقائی امن و استحکام پر تبادلہ خیال 28 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کے حقوق پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے: سلمان اکرم راجہ ہرنائی میں پاک فوج کا بروقت ریسکیو آپریشن، 5 کان کن زندہ نکال لیے پٹرولیم لیوی کیخلاف جدوجہد سے حکومت ریلیف دینے پر مجبور ہوئی: حافظ نعیم وزیراعظم کا عوام کیلئے خصوصی پٹرول ریلیف سکیم کا اعلان پٹرولیم مصنوعات پر ریلیف: حکومت اور جماعت اسلامی کے مذاکرات منگل تک موخر

مصنوعی ذہانت نے کھربوں روپے کی ٹیکس چوری پکڑ لی

Web Desk

10 March 2026

مصنوعی ذہانت کے مؤثر استعمال سے بڑے مالیاتی معاملات کی نگرانی آسان ہو گئی ہے اور حال ہی میں اے آئی کی مدد سے کھربوں روپے کی ٹیکس چوری کا سراغ لگایا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق محکمہ انکم ٹیکس نے مصنوعی ذہانت اور سیٹلائٹ امیجنگ جیسی جدید ٹیکنالوجیز استعمال کرتے ہوئے زرعی زمین کی خرید و فروخت میں ہونے والی بڑے پیمانے کی ٹیکس چوری کا پتہ لگایا ہے۔

اس معاملے میں ریاست Rajasthan میں تقریباً 900 افراد کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں اور انہیں اپنے انکم ٹیکس ریٹرن میں ترمیم کا موقع فراہم کیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ تمام کیسز شہر Jaipur کے شہری علاقے اور اس کے اطراف تقریباً 8 کلومیٹر کے بفر زون میں ہونے والی زمین کی خرید و فروخت سے متعلق ہیں۔ اندازوں کے مطابق اس ٹیکس چوری کی مجموعی مالیت تقریباً 7 ہزار کروڑ بھارتی روپے، یعنی پاکستانی کرنسی میں 2 کھرب روپے سے زائد بنتی ہے۔

متعلقہ علاقے میں تقریباً 250 دیہات شامل ہیں جہاں گزشتہ چند برسوں کے دوران زرعی زمین کی بڑے پیمانے پر خرید و فروخت ہوئی۔ محکمہ انکم ٹیکس کی تکنیکی جانچ سے معلوم ہوا کہ متعدد معاملات میں کیپٹل گین ٹیکس ادا نہیں کیا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق اس ٹیکس چوری کا سراغ لگانے کے لیے محکمہ انکم ٹیکس نے Indian Institute of Technology Delhi کے ساتھ تعاون کیا۔ ادارے کی تکنیکی ٹیم نے سیٹلائٹ تصاویر حاصل کر کے ڈیجیٹل میپنگ اور زمین سے متعلق دستیاب ریکارڈ کا تفصیلی تجزیہ کیا۔

اس ڈیٹا کی بنیاد پر جے پور کی میونسپل حدود سے 8 کلومیٹر تک کے بفر زون کی نشاندہی کی گئی، جس کے بعد زمین کے سودوں کا تکنیکی انداز میں جائزہ لیا گیا۔

اس حوالے سے Central Board of Direct Taxes کے چیئرمین Ravi Agrawal نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت کو بنیادی طور پر تین اہم مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جن میں ٹیکس دہندگان کے مالی رویوں میں موجود پیٹرنز کی شناخت بھی شامل ہے۔