LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ناروے کے بادشاہ کی آخری رسومات کے دو دن بعد شہزادی بھی چل بسیں 9/11 انہی لوگوں نے کیا جن کو امریکا نے ہتھیار فراہم کیے تھے: اسماعیل بقائی 14 ستمبر سے نادرا ویکسینیشن سرٹیفکیٹ کے بغیر بین الاقوامی سفر کی اجازت نہیں ہوگی پیٹرولیم مہنگائی پر ٹرانسپورٹرز کا کرائے 5 فیصد مزید بڑھانے کا اعلان سندھ میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ پر شرجیل میمن برس پڑے سندھ میں کوئی بھی صوبے کی تقسیم کے حق میں نہیں، عوام نے اپنا فیصلہ سنا دیا: مراد علی شاہ نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی نے نئے صوبے اور انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر قرار دیدیا سعودی عرب پر ڈرون حملے ، عراقی وزیراعظم نے اعلیٰ فوجی کمانڈر کو برطرف کر دیا انصاراللہ کی اہم ساحلی علاقوں کا کنٹرول سنبھالنے پر باب المندب میں پٹرولنگ انڈونیشیا کا جزیرہ جاوا 6.2 شدت کے زلزلے سے لرز اٹھا سعودی وزیر خارجہ کا ترک و قطری وزرائے خارجہ سے رابطہ، علاقائی صورت حال پر گفتگو جی سی سی کی سعودی ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن پر ڈرون حملے کی شدید مذمت یو اے ای میں تعینات پاکستانی سفیر شفقت علی خان آرمینیا کے پہلے سفیر مقرر قابض افغان طالبان رجیم کے خلاف مسلح مزاحمت تیز حوثیوں کا یمنی علاقے ذباب اور سٹرٹیجک جزیرے میون پر بھی قبضہ

قابض افغان طالبان رجیم کے خلاف مسلح مزاحمت تیز

Web Desk

12 September 2026

افغانستان میں طالبان انتظامیہ کے خلاف مختلف مسلح مخالف گروہوں کی کارروائیوں میں شدت آ گئی ہے، جس کے باعث قابض طالبان رجیم پر دباؤ میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ افغان جریدے ‘ہشتِ صبح’ کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2026ء سے یکم ستمبر 2026ء کے درمیان طالبان مخالف اہم محاذوں—نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (NRF)، فریڈم فرنٹ، اور یونائیٹڈ فرنٹ—نے ملک کے مختلف حصوں میں 73 کارروائیوں اور حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان اہم گروہوں کے علاوہ ہوم لینڈ سولجرز فرنٹ، نیشنل موبلائزیشن فرنٹ، فریڈم موومنٹ، اور فریڈم اینڈ جسٹس موومنٹ نے بھی طالبان فورسز کے خلاف متعدد حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان کی کمزور ہوتی عوامی حمایت، معاشی زبوں حالی اور آپسی اندرونی اختلافات نے ان مخالف محاذوں کی پیش قدمی کو مزید تقویت بخشی ہے۔ طالبان انتظامیہ کے خلاف مسلسل بڑھتے ہوئے مسلح حملے اور نئے محاذوں کا قیام افغان عوام کی شدید داخلی شکایات اور غصے کا براہِ راست نتیجہ ہیں۔