LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بھارت سندھ طاس معاہدے سے متعلق فیصلے کو مسترد نہیں کرسکتا، ترجمان دفتر خارجہ پاکستان نیوی کی میری ٹائم مشق ’سی سپارک 2026‘ کراچی میں شروع بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور بچوں سے بات نہ کروانے کا معاملہ، توہینِ عدالت کی درخواست دائر پاکستان کا کرغزستان کے ساتھ تجارت 2 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اظہار ملک میں کاروباری اوقات کار میں اضافے کی سفارش صدر زرداری سے لندن میں محسن نقوی کی ملاقات، اہم پیغام پہنچایا وزیراعظم شہباز شریف کی بشکیک میں صدارتی محل آمد، گارڈ آف آنر پیش ایف سی بلوچستان ٹریننگ سینٹر خضدار میں بیسک ملٹری ٹریننگ بیچ 76 کی پاسنگ آؤٹ پریڈ یوم دفاع و شہداء: پشاور کے تعلیمی اداروں میں پاک فوج کے زیراہتمام تقریبات ایئر ڈیفنس نے فضائی حدود میں داخل ہونے والے میزائلوں کو ناکام بنا دیا: اردن پاسداران انقلاب کے حق میں مظاہرہ کرنے والوں پر مشتبہ گاڑی چڑھ گئی، 4 افراد جاں بحق نیپال میں تباہ کن سیلاب: ہلاکتیں 1050 تک پہنچ گئیں، 4 ہزار افراد تاحال لاپتہ امریکا کی بچوں کے پاسپورٹ کے حصول کیلئے نئی تجویز پیش امریکی، روسی اور چینی صدور کی ایشیا پیسفک سربراہ کانفرنس کے موقع پر ملاقات متوقع امریکی صدر نے ہنگ کاؤ کو امریکا کا نیول سیکرٹری نامزد کردیا

مجھے اغوا کیا گیا، اب بھی وینزویلا کا صدر ہوں ،  مادورو کا امریکی عدالت میں الزامات تسلیم کرنے سے انکار

Web Desk

5 January 2026

وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے امریکی وفاقی عدالت میں منشیات اسمگلنگ اور دہشت گردی سمیت دیگر الزامات تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایک اچھے اور مہذب انسان ہیں اور انہیں اغوا کر کے امریکا لایا گیا ہے۔

مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو بروکلن سے بذریعہ ہیلی کاپٹر مین ہیٹن منتقل کیا گیا، جہاں سے انہیں ایک بکتر بند گاڑی میں عدالت لایا گیا۔ امریکی میڈیا کے مطابق مادورو کو قیدیوں کا یونیفارم پہنایا گیا اور ہتھکڑیوں میں جکڑ کر عدالت میں پیش کیا گیا، جبکہ عدالتی کارروائی کو ہسپانوی زبان میں سمجھنے کے لیے انہوں نے ہیڈفون بھی پہن رکھے تھے۔

وفاقی عدالت کے جج نے جب مادورو سے شناخت پوچھی تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ وینزویلا کے صدر ہیں۔ اس پر جج نے ان کے خلاف منشیات اور دہشت گردی سے متعلق الزامات پڑھ کر سنائے، تاہم مادورو نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ
’’میں بے گناہ ہوں، اب بھی اپنے ملک کا صدر ہوں، یہاں جن باتوں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں سے کسی کا بھی میں قصوروار نہیں، مجھے اغوا کیا گیا ہے‘‘۔

عدالت میں سماعت کے دوران فضا اس وقت کشیدہ ہو گئی جب مادورو نے خود کو ’’جنگی قیدی‘‘ قرار دیا، جبکہ ایک موقع پر عدالت میں موجود ایک شخص سے ان کا جملوں کا سخت تبادلہ بھی ہوا۔

مادورو کی اہلیہ سیلیا فلوریس نے بھی عدالت میں اپنی بے گناہی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ کسی جرم میں ملوث نہیں ہیں۔

جج نے مقدمے میں طویل تاریخ دیتے ہوئے مادورو اور ان کی اہلیہ کو 17 مارچ کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

دوسری جانب عدالت کے باہر مظاہرین کی بڑی تعداد جمع رہی۔ بعض مظاہرین نے ’’USA Hands-off Venezuela‘‘ جبکہ کچھ نے ’’Thank You President Trump‘‘ کی تحریر والے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔

ادھر وینزویلا میں ڈیلسی رودریگز نے بطور عبوری صدر حلف اٹھاتے ہوئے نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو قومی ہیرو قرار دیا اور کہا کہ وہ ملک کی خودمختاری کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔

خیال رہے کہ نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو ہفتے کے روز وینزویلا میں ایک امریکی فوجی آپریشن کے دوران حراست میں لیا گیا تھا، جس کے بعد اتوار کے روز دونوں کو امریکا منتقل کر کے نیویارک کی ایک جیل میں رکھا گیا۔