LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا دورہ پاکستان منسوخ، وائٹ ہاؤس نے تصدیق کردی ایران نے مذاکرات کے حوالے سے امریکہ کی  شرائط مسترد کردیں: ایرانی سرکاری میڈیا جنگ بندی میں توسیع پر صدر ٹرمپ کا شکریہ، پاکستان کا سفارتی عمل جاری رکھنے کا اعلان صدر ٹرمپ نے امریکا ایران جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کردیا آبنائے ہرمز میں پھنسے ہزاروں ملاحوں کے لیے اقوام متحدہ کی مدد کی اپیل مذاکراتی ٹیم سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی ہدایات کے مطابق چل رہی ہے: ایران ایران کے ساتھ جھوٹے وعدے کیے گئے، روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف عمران خان کی بہنیں آج بھی ملاقات کیے بغیر واپس لوٹ گئیں ایران-امریکا مذاکرات: ایران کا جواب نہیں آیا، امریکی نائب صدر کا دورہ پاکستان مؤخر مذاکرات کے لیے وفد اسلام آبادبھیجنے کاابھی تک فیصلہ نہیں کیا، ایرانی وزارت خارجہ جنگ بندی میں توسیع نہیں چاہتا،ایران کے معاملے میں جلدبازی سے فیصلہ نہیں کروں گا، ٹرمپ امریکاوایران جنگ میں توسیع پر غورکریں، سفارتکاری کو موقع دیں، اسحاق ڈار ایران کی جانب سے امن مذاکرات میں شرکت کےلیے تصدیق کا انتظارہے، عطاتارڑ پاک بحریہ کا فضا سے سطح سمندر پر مار کرنے والے تیمور کروز میزائل کا کامیاب تجربہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں میں تیزی کیلئے نیا نظام منظور

امریکہ نے افغان جنگ میں 763 ارب ڈالر خرچ کیے: امریکی انسپکٹر جنرل

Web Desk

4 January 2026

 

امریکی انسپکٹر جنرل نے افغانستان میں 2001 سے 2021 تک جاری جنگ اور تعمیرِ نو کے حوالے سے حتمی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکا نے افغان جنگ پر مجموعی طور پر 763 ارب ڈالر خرچ کیے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی دعوؤں کے برعکس دوحہ مذاکرات کے عمل میں افغان حکومت کو نظرانداز کیا گیا، جس کے نتیجے میں ریاستی ڈھانچہ کمزور ہوا اور سیاسی عدم استحکام میں اضافہ ہوا۔

سرکاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2002 سے 2021 کے دوران افغانستان میں تعمیرِ نو کے لیے 144.7 ارب ڈالر مختص کیے گئے، جن میں سے 137.3 ارب ڈالر خرچ ہوئے۔ یہ اخراجات یورپ کے تاریخی مارشل پلان سے بھی زیادہ تھے، تاہم افغان حکومتوں میں بدعنوانی تعمیرِ نو کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی رہی۔

رپورٹ کے مطابق جنگی کارروائیوں پر 763 ارب ڈالر جبکہ افغان سیکیورٹی فورسز کے لیے 90 ارب ڈالر مختص کیے گئے۔ اس بھاری سرمایہ کاری کے باوجود افغان فورسز غیر ملکی افواج پر انحصار ختم نہ کر سکیں اور امریکی انخلا کے بعد تیزی سے منتشر ہو گئیں۔

انسپکٹر جنرل کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغان سیکیورٹی اداروں میں ہزاروں گھوسٹ ملازمین موجود رہے، جبکہ ایندھن سمیت دیگر وسائل کی بڑے پیمانے پر چوری ہوتی رہی۔ افغان فورسز کو گاڑیاں، ہزاروں عسکری آلات اور 162 طیارے فراہم کیے گئے، تاہم امریکی انخلا کے بعد یہ تمام سازوسامان افغانستان میں چھوڑ دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے 12.16 ارب ڈالر کے وعدے کیے، جبکہ انسدادِ منشیات پروگرام پر 7.3 ارب ڈالر خرچ ہونے کے باوجود کوئی مؤثر نتائج حاصل نہ ہو سکے۔ اسی طرح اسٹیبلائزیشن پروگرامز پر 4.7 ارب ڈالر خرچ کیے گئے، مگر نتائج مایوس کن رہے۔

افغان جنگ کے دوران 2,450 سے زائد امریکی فوجی ہلاک اور 20,700 زخمی ہوئے۔ امریکی انخلا کے بعد افغان مہاجرین کی امریکا منتقلی کے لیے 14.2 ارب ڈالر مختص کیے گئے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ سقوطِ کابل کے بعد امریکا نے چار سالوں میں طالبان حکومت کو 3.83 ارب ڈالر کی امداد فراہم کی، جس میں صرف مارچ 2025 کی ایک سہ ماہی میں 120 ملین ڈالر شامل تھے۔

اس کے علاوہ عالمی عطیہ دہندگان نے امریکی انخلا کے بعد اقوام متحدہ کے تحت چلنے والے منصوبوں کے لیے 8.1 ارب ڈالر فراہم کیے۔ افغان ری کنسٹرکشن ٹرسٹ فنڈ کے تحت 1.5 ارب ڈالر کے چھ منصوبے فعال ہیں، جبکہ رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ طالبان حکومت ان امدادی رقوم پر ٹیکس اور لیویز وصول کرتی رہی۔

رپورٹ مجموعی طور پر افغانستان میں امریکی مداخلت، بھاری اخراجات اور مطلوبہ نتائج کے درمیان واضح تضاد کو اجاگر کرتی ہے۔