LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاک بحریہ کا فضا سے سطح سمندر پر مار کرنے والے تیمور کروز میزائل کا کامیاب تجربہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں میں تیزی کیلئے نیا نظام منظور چینی سفیر کی اسحاق ڈار سے ملاقات: امریکہ ایران مذاکرات میں پاکستان کے کردار کی تعریف، مکمل اعتماد کا اظہار آئی ایم ایف کا شکنجہ مزید سخت: 11 نئی شرائط عائد، پاکستان کی 2027 تک اصلاحات مکمل کرنے کی یقین دہانی حج فلائٹ آپریشن میں تیزی، مزید 3510 عازمین آج سعودی عرب روانہ ہوں گے امریکا کا تجارتی جہاز پر قبضہ،ایران نے اقوام متحدہ میں شکایت درج کروا دی عالمی سفارت کاری کا مرکز اسلام آباد: ایران امریکہ مذاکرات کے لیے ریڈ زون سیل سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو مزید 1 ارب ڈالر کے فنڈز موصول پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر تیزی کا رجحان خیبرپختونخوا کابینہ کا آج ہونے والا اجلاس ملتوی ٹرمپ مذاکرات کی میز کو ہتھیار ڈالنے میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں: باقر قالیباف ایران سے ہونے والا معاہدہ جلد اور اوباما دور کے معاہدے سے بہتر ہوگا: امریکی صدر اسرائیل اور لبنان کے درمیان امن مذاکرات جمعرات کو واشنگٹن میں ہوں گے ریڈ زون کے اداروں میں 21 اپریل کو ورک فرام ہوم کا فیصلہ : نوٹیفکیشن جاری ایرانی وفد کا امریکاسے مذاکرات کیلیے اسلام آبادآنے کاامکان، برطانوی نیوزایجنسی

بچپن میں لاپتہ ہونے والی بچی 42 سال بعد ڈرامائی انداز میں بازیاب

Web Desk

28 December 2025

امریکا میں تین سال کی عمر میں اغوا ہونے والی ایک لڑکی 42 سال سے زائد عرصے بعد بازیاب ہو گئی، تاہم حیران کن انکشاف یہ سامنے آیا ہے کہ وہ تمام عمر خود کو اغوا شدہ ہی نہیں سمجھتی رہی۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 1983 میں امریکی ریاست کینٹکی سے تین سالہ بچی شیل میری نیوٹن کے اغوا کی اطلاع سامنے آئی تھی، جس کی عمر اب 46 برس ہو چکی ہے۔ وہ گزشتہ چار دہائیوں تک مختلف ناموں کے تحت زندگی گزارتی رہی اور اسے اس بات کا علم ہی نہیں تھا کہ اس کا نام لاپتا بچوں کے سرکاری ریکارڈ میں شامل ہے۔

حکام کے مطابق شیل کو نومبر 2024 میں پہلی بار اس کی اصل شناخت اور ماضی کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ اسے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ اس کی والدہ ڈیبرا نیوٹن ایف بی آئی کی ’’ٹاپ ایٹ موسٹ وانٹڈ پیرنٹل کڈنیپنگ فجیٹیوز‘‘ کی فہرست میں شامل رہ چکی ہیں۔ 42 سال بعد شیل کی اپنے والد جوزف نیوٹن سے ملاقات ممکن ہو سکی۔

پولیس کے مطابق 1983 میں ڈیبرا نیوٹن نے گھر سے جاتے ہوئے بتایا تھا کہ وہ جارجیا منتقل ہونے کی تیاری میں پہلے جا رہی ہیں، تاہم بعد ازاں جب جوزف نیوٹن جارجیا پہنچے تو وہاں نہ بیوی موجود تھیں اور نہ ہی بیٹی کا کوئی سراغ ملا۔ 1984 اور 1985 کے درمیان ایک آخری فون کال کے بعد ماں بیٹی مکمل طور پر لاپتا ہو گئیں۔

بچی کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی گئیں، مختلف ریاستوں میں پوسٹر آویزاں کیے گئے جبکہ ڈیبرا نیوٹن پر بچی کو غیر قانونی تحویل میں رکھنے کا مقدمہ درج کر کے انہیں ایف بی آئی کی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل کر لیا گیا۔

سال 2000 میں کیس بند کر دیا گیا تھا تاہم 2016 میں ایک قریبی عزیز کی درخواست پر تحقیقات دوبارہ شروع ہوئیں اور 2017 میں گرینڈ جیوری نے ڈیبرا نیوٹن پر دوبارہ فردِ جرم عائد کر دی۔

تحقیقات اس وقت فیصلہ کن موڑ پر پہنچیں جب پولیس کو اطلاع ملی کہ ڈیبرا نیوٹن فلوریڈا میں ’شیرون نیلی‘ کے نام سے مقیم ہیں۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے انہیں گرفتار کیا اور بعد ازاں ان کی بیٹی شیل کو تمام حقائق سے آگاہ کیا گیا۔

شیل کے والد جوزف نیوٹن نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ’’میری بیٹی ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہی، اسے گلے لگانا ایسا تھا جیسے میں پہلی بار اسے نوزائیدہ حالت میں دیکھ رہا ہوں، وہ مجھے ایک فرشتے کی مانند محسوس ہوئی۔‘‘

مشیل اور ان کے والد عدالت میں اس وقت موجود تھے جب ڈیبرا نیوٹن پر تحویل میں مداخلت کے سنگین الزامات کی فردِ جرم عائد کی گئی۔ سماعت کے بعد عدالت نے ڈیبرا نیوٹن کو ایک اہلِ خانہ کی جانب سے جمع کرائی گئی ضمانت پر رہا کر دیا۔