LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
درجہ حرارت میں اضافے کا امکان، متعلقہ ادارے الرٹ رہیں: این ڈی ایم اے گورنر پنجاب نے سیلاب متاثرین میں 26 گھروں کی چابیاں تقسیم کردیں پاکستان کی سعودی عرب میں حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت ایرانی صدر کا جارح قوتوں کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان شہباز شریف سے ممتاز صنعت کاروں اور کاروباری شخصیات کے وفد کی ملاقات اسلام آباد جوڈیشل سروس رولز 2011 میں ترمیم منظور، ججز کے تبادلوں کی راہ ہموار قائم مقام صدر یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ موبائل ایپلی کیشن کا افتتاح کر دیا حوثیوں کے حملے قابلِ مذمت، پاکستان سعودیہ کی حمایت جاری رکھے گا: وزیراعظم سندھ اسمبلی: جماعت اسلامی کی لیوی ٹیکس ختم کرنے کی قرارداد منظور آئی ٹی برآمدات میں اضافہ؛ پاکستانی ٹیک سیکٹر کی عالمی منڈیوں تک رسائی ٹرمپ کی ایران سے جنگ جیتنے پر تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی کی پیشگوئی اڈیالہ جیل کے 3 قیدیوں کا عمران خان جیسی طبی سہولیات کیلئے آئینی عدالت سے رجوع اقوامِ متحدہ نے معیاری عالمی نقشے میں کشمیر کو متنازعہ علاقہ قرار دے دیا 27 ستمبر احتجاج کیس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کا لارجر بینچ بنانے کا فیصلہ اسلام آباد کو خودمختار یونٹ بنانے پر نیا ٹیکس لگانے کی تجاویز تیار

کوئٹہ: بلوچستان ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ سینیٹ امیدوار کی حیثیت برقرار

Web Desk

5 November 2025

بلوچستان ہائی کورٹ نے ایمل ولی خان کی سینیٹ کامیابی کے خلاف دائر درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ان کی کامیابی مکمل طور پر آئینی اور قانونی ہے۔

عدالتِ عالیہ بلوچستان نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ایمل ولی خان کا شناختی کارڈ بلوچستان کے پتے پر جاری ہوا ہے جبکہ ان کا نام کوئٹہ کے حلقے کی ووٹر فہرست میں موجود ہے۔ عدالت کے مطابق الیکشن کمیشن نے 15 مارچ 2024 کو ووٹر اندراج کا سرٹیفکیٹ جاری کیا تھا۔

عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکے کہ ایمل ولی خان کا ووٹر اندراج غیر قانونی تھا۔ عدالت نے واضح کیا کہ الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعات 26 اور 27 کے تحت پتہ اور ووٹر لسٹ میں اندراج کسی شخص کی رہائش کے ثبوت کے لیے کافی ہے۔

فیصلے کے مطابق، شناختی کارڈ اور ووٹر لسٹ میں اندراج کسی شخص کی رہائش کو ثابت کرتا ہے، جبکہ ایمل ولی خان آئین کے آرٹیکل 62 کے تمام تقاضوں پر پورا اترتے ہیں۔عدالت نے قرار دیا کہ الیکشن ایکٹ کی دفعہ 110 کے تحت ان کے کاغذاتِ نامزدگی جانچ پڑتال کے بعد منظور کیے گئے تھے، لہٰذا ان کی کامیابی میں کسی قسم کی قانونی یا آئینی خامی نہیں پائی گئی