LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سینیٹ میں ارکان سینیٹ کو لائف ٹائم بلیو پاسپورٹ دینےکا بل منظور پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغاز پر تیزی ٹرمپ انتظامیہ اور یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائنا کے درمیان معاہدہ طے یوکرینی صدر مذاکرات کیلئے کسی دوسرے شخص کو ذمہ داری سونپیں: ڈونلڈ ٹرمپ روس کی پاک افغان کشیدگی کے خاتمے کیلئے ثالثی کی پیشکش امریکی سپریم کورٹ کا نائن الیون حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ کی اپیل پر سماعت سے انکار فلسطینی نژاد طالبعلم محمود خلیل کا ملک بدری سے بچنے کیلئے امریکی سپریم کورٹ سے رجوع یوکرین صدر کا روسی حملوں کی روک تھام کیلئے پیٹریاٹ دفاعی نظام کی فراہمی کا مطالبہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہڈیوں کے امراض کا عالمی دن آج منایا جا رہا ہے فرانس میں بدترین ہنگامے: صدر ایمانوئل کی حکومت شدید سیاسی بحران سے دوچار حوثیوں کے حملے: سعودیہ اور امارات کا قریبی روابط اور مشترکہ تعاون بڑھانے پر زور حوثی باغیوں کیساتھ سیاسی مذاکرات سے مسئلے کا حل نکلنے کی توقع نہیں: ڈاکٹر عبدالعزیز صقر نیب کے سہیل آفریدی کے معاون خصوصی ڈاکٹر امجد سمیت 5 افراد کو طلبی کے نوٹس جاری متحدہ عرب امارات اور فرانس کا سمندری سلامتی کیلئے تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق خیبرپختونخوا میں گورنر راج کسی لالچ میں نہیں لگایا گیا: شرجیل میمن

نیٹ فلکس اور کپل شرما شو بڑے قانونی تنازع میں پھنس گئے

Web Desk

25 December 2025

معروف میوزک رائٹس ادارے فونوگرافک پرفارمنس لمیٹڈ (پی پی ایل) انڈیا نے بمبئی ہائی کورٹ میں نیٹ فلکس پر نشر ہونے والے شو کے خلاف کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کا مقدمہ دائر کر دیا ہے۔

پی پی ایل کے مطابق شو کے تیسرے سیزن میں بالی ووڈ کے تین مشہور گانے بغیر اجازت استعمال کیے گئے ہیں: فلم منّا بھائی ایم بی بی ایس کا ’ایم بولے تو‘، فلم کانٹے کا ’راما رے‘ اور فلم دیسی بوائز کا ’صبح ہونے نہ دے‘۔ یہ اقساط جون سے ستمبر کے درمیان نشر ہوئیں۔

درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ ان گانوں کا استعمال بھارتی کاپی رائٹ ایکٹ کے تحت ’عوامی پرفارمنس اور عوام تک ترسیل‘ کے زمرے میں آتا ہے، کیونکہ شو پہلے لائیو آڈیئنس کے سامنے ریکارڈ کیا جاتا ہے اور بعد میں آن لائن لاکھوں ناظرین تک پہنچتا ہے۔

پی پی ایل نے عدالت کو بتایا کہ نومبر کے آغاز میں شو کے پروڈیوسرز کو نوٹس بھیجا گیا تھا، مگر ان کا جواب غیر تسلی بخش تھا اور موسیقی کا استعمال جاری رہا۔

ادارہ عدالت سے درخواست کر رہا ہے کہ گانوں کے مزید استعمال کو روکا جائے، ممکنہ آمدن کی تفصیلات فراہم کی جائیں اور خلاف ورزی سے متعلق مواد ضبط کیا جائے۔