LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہیں کرے گا: وائٹ ہاؤس راجن پور میں خوفناک حادثہ، مسافر بس الٹنے سے 9 افراد جاں بحق، 36 زخمی لبنان میں اقوام متحدہ کی امن فوج کا سرگرمیاں جاری رکھنے کا اعلان غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے، میاں بیوی اور 17 سالہ نوجوان سمیت 4 فلسطینی شہید امریکا کے ساتھ کشیدگی میں کمی کیلئے زیلنسکی کی اسٹیو وٹکوف سے ملاقات سینٹ کام کی آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر کے بارودی سرنگوں سے ٹکرائے جانے کی تردید ملتان: یتیم بچے کو کار سے کچلنے والا ملزم توقیر نذیر مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک مڈ ٹرم انتخابات سے قبل صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں مزید کمی، ریپبلکنز کے لیے خدشات بڑھ گئے ایران کا اقوام متحدہ سے امریکا اور اسرائیل کی دھمکیاں رکوانے کا مطالبہ سعودی و کویتی وزرائے خارجہ کی حوثی حملوں اور دھمکیوں کی مذمت یمن کی مسلح افواج کے 700 سے زائد حملے، سیکڑوں حوثی جنگجو ہلاک، متعدد زخمی ملتان میں یتیم بچے کو کار سے کچلنے والا ملزم مقابلے میں ہلاک حوثی باغیوں نے تہران کی ثالثی کی پیشکش کا تاحال کوئی جواب نہیں دیا، ایران لاہور: مضرِ صحت دودھ پینے سے 2 سالہ بچہ جاں بحق، ایک کی حالت تشویشناک روس امریکی تجاویز سننے کیلئے تیار، لیکن سیاسی رعایتیں نہیں دیں گے: سرگئی لاوروف

یوکرین صدر کا روسی حملوں کی روک تھام کیلئے پیٹریاٹ دفاعی نظام کی فراہمی کا مطالبہ

Web Desk

20 October 2026

یوکرین کے صدر وولودیپیر زیلنسکی نے امریکی دفاعی اور ایرو اسپیس کمپنی ‘لاک ہیڈ مارٹن’ (Lockheed Martin) کے اعلیٰ نمائندوں سے ایک اہم ملاقات میں روسی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں سے بچاؤ کے لیے پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس سسٹمز (Patriot Defense Systems) کی فراہمی تیز کرنے پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا ہے۔

یوکرینی صدر کے مطابق، روس کے مسلسل میزائل حملوں اور جدید جیٹ انجن سے چلنے والے ڈرونز کا مقابلہ کرنے کے لیے پیٹریاٹ دفاعی نظام اور ایف-16 (F-16) لڑاکا طیارے انتہائی اہم اور مؤثر کردار ادا کر رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ فضائی اور زمینی دونوں محاذوں پر سیکیورٹی صورتحال اس وقت شدید چیلنجنگ اور مشکل بنی ہوئی ہے۔

صدر زیلنسکی نے مزید بتایا کہ لاک ہیڈ مارٹن کے حکام کے ساتھ گفتگو میں جدید ایئر ڈیفنس سسٹمز کی ترسیل میں حائل رکاوٹیں دور کرنے اور فراہمی کا عمل تیز تر بنانے کی ممکنہ صلاحیتوں پر غور کیا گیا، تاکہ روس کے تباہ کن فضائی حملوں کے خلاف یوکرین کی دفاعی ڈھال اور عسکری صلاحیت کو مزید مضبوط اور فعال بنایا جا سکے۔