LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
صدر آصف علی زرداری سے محسن نقوی کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال آئینِ پاکستان کو نہ ماننے والوں سے کوئی بات نہیں ہوگی: فیصل کریم پولیس پر تشدد کا کیس: ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ پر فرد جرم کی تاریخ مقرر ہراسگی قانون کے تحت کارروائی کیلئے جنسی نوعیت کا عنصر ضروری ہے: آئینی عدالت 4 اکتوبر کا لانگ مارچ فی الحال حتمی ہے، مگر حالات کے مطابق فیصلے کا حق رکھتے ہیں: سینیٹر علی ظفر پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 1.2 ارب ڈالر قسط کیلئے مذاکرات کا آغاز حکومت کا یکساں گیس ٹیرف نافذ کرنے کا فیصلہ، آئی ایم ایف سے منظوری لی جائے گی ملک بھر کے صارفین کے لیے بجلی مزید مہنگی کرنے کی تیاری نیتن یاہو نے اماراتی صدر کی دعوت پر ابوظہبی کا دورہ کیا: اسرائیلی وزیراعظم دفتر حافظ نعیم سے منسوب لغو بات پھیلائی جا رہی ہے: لیاقت بلوچ قطر نے ہمارے مؤقف سے امریکا کو آگاہ کر دیا، اب جواب کا انتظار ہے: عراقچی پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ، کھلی فضا میں ڈرون اڑانے پر پابندی عائد سعودی عرب کی سلامتی پاکستان کیلئے ریڈ لائن ہے: مولانا طاہر اشرفی پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز سکیورٹی فورسز کے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں آپریشنز، 7 دہشت گرد جہنم واصل

کمائی کا انوکھا تجربہ: نایاب درخت اور چائے ڈیجیٹل اثاثوں میں تبدیل

Web Desk

22 December 2025

خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق چین کے گرم جزیرے ہائنان میں نایاب ہوانگ ہوا لی درختوں کی تصاویر لی جا رہی ہیں تاکہ انہیں ڈیجیٹل اثاثوں میں تبدیل کیا جا سکے۔ ہوانگ ہوا لی، جسے ’پیلا پھول دینے والا ناشپاتی درخت‘ بھی کہا جاتا ہے، ایک قیمتی قسم کی لکڑی ہے جو اپنی سنہری چمک اور خوبصورتی کی وجہ سے مشہور ہے۔ ماضی میں چینی بادشاہ اس لکڑی کو خاص اہمیت دیتے تھے اور آج بھی اس کی مانگ بہت زیادہ ہے۔ تاہم یہ درخت تیار ہونے میں کئی دہائیاں لیتا ہے، جس کے باعث کسانوں کو مالی مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔

جیلی ٹیکنالوجی گروپ کے ہائنان میں نمائندے ژاؤ شاؤباؤ کا کہنا ہے کہ ان درختوں کو قابلِ تجارت ڈیجیٹل اثاثوں میں بدلنے سے اس صنعت میں سرمایہ آئے گا۔ ان کے مطابق اس طریقہ کار کے ذریعے قیمتی لکڑی جیسے غیر استعمال شدہ وسائل کو تجارتی اثاثوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے، جو جنگلاتی صنعت میں بڑی تبدیلی لا سکتا ہے۔

جیلی ٹیک کا منصوبہ ہے کہ ہانگ کانگ میں چند ماہ کے اندر ڈیجیٹل ٹوکنز کا پہلا مرحلہ متعارف کرایا جائے، جس کے ذریعے تقریباً 10 کروڑ ہانگ کانگ ڈالر جمع کیے جائیں گے۔ ہر درخت کی مالیت اس کے سائز اور معیار کے مطابق طے کی جائے گی اور پھر اسے مختلف ڈیجیٹل حصص یعنی ٹوکنز میں تقسیم کیا جائے گا۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ دنیا میں پہلی بار ہوگا کہ قدرتی اور حیاتیاتی اثاثوں کو اس طرح ڈیجیٹل شکل دی جائے گی۔

یہ رجحان صرف قیمتی درختوں تک محدود نہیں۔ چین میں اعلیٰ درجے کی چائے، مہنگی بائی جیو شراب اور دیگر اشیاء کو بھی ڈیجیٹل اثاثوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ قانونی ماہر لیاؤ رین لیانگ کے مطابق نوادرات، کلیکشن، ڈیٹا، کموڈیٹیز اور جائیداد جیسے کئی اثاثوں کو ڈیجیٹل شکل دینے کے حوالے سے کمپنیوں کی جانب سے دلچسپی سامنے آ رہی ہے۔

اگرچہ ہانگ کانگ میں اس نئے سرمایہ کاری ماڈل کو پذیرائی مل رہی ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس شعبے میں ابھی آغاز ہی ہوا ہے۔ خدشہ ہے کہ اثاثوں کی تعداد تو بہت زیادہ ہو سکتی ہے لیکن خریداروں کی تعداد محدود رہ سکتی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ چین کے اندر سے سرمایہ کاری پر پابندیاں موجود ہیں۔

ادھر ہانگ کانگ ڈیجیٹل اثاثوں کو فروغ دے رہا ہے تاکہ خود کو ایشیا کے ایک بڑے مالیاتی مرکز کے طور پر مزید مضبوط کیا جا سکے۔ دوسری جانب بیجنگ میں حکام نے ڈیجیٹل اثاثوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کرپٹو کرنسی کی تجارت پہلے ہی ممنوع قرار دی جا چکی ہے۔

شنگھائی میں ایک اسٹارٹ اپ کمپنی نے اعلیٰ درجے کی پوئر چائے کو ڈیجیٹل اثاثوں میں تبدیل کیا ہے۔ اس چائے کی خاص بات یہ ہے کہ جتنا زیادہ وقت گزرتا ہے، اس کی قدر اتنی ہی بڑھتی جاتی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ بلاک چین ٹیکنالوجی کے ذریعے جعلسازی کے مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

چائے کی شوقین 27 سالہ جونو ژو کا کہنا ہے کہ انہوں نے ڈیجیٹل چائے کے سو یونٹس خریدے ہیں اور انہیں اس حوالے سے کسی قسم کا خدشہ نہیں۔ ان کے مطابق یہ ڈیجیٹل اثاثے کسی حقیقی قدر پر مبنی ہیں۔

اسی طرح ایک چینی کمپنی نے بتایا ہے کہ اس کی بائی جیو شراب کے 62 ٹن ذخائر کو بھی ڈیجیٹل اثاثوں میں تبدیل کیا گیا ہے، جس کے ذریعے تقریباً 50 کروڑ ہانگ کانگ ڈالر اکٹھے کرنے کا منصوبہ ہے۔