LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا دورہ پاکستان منسوخ، وائٹ ہاؤس نے تصدیق کردی ایران نے مذاکرات کے حوالے سے امریکہ کی  شرائط مسترد کردیں: ایرانی سرکاری میڈیا جنگ بندی میں توسیع پر صدر ٹرمپ کا شکریہ، پاکستان کا سفارتی عمل جاری رکھنے کا اعلان صدر ٹرمپ نے امریکا ایران جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کردیا آبنائے ہرمز میں پھنسے ہزاروں ملاحوں کے لیے اقوام متحدہ کی مدد کی اپیل مذاکراتی ٹیم سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی ہدایات کے مطابق چل رہی ہے: ایران ایران کے ساتھ جھوٹے وعدے کیے گئے، روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف عمران خان کی بہنیں آج بھی ملاقات کیے بغیر واپس لوٹ گئیں ایران-امریکا مذاکرات: ایران کا جواب نہیں آیا، امریکی نائب صدر کا دورہ پاکستان مؤخر مذاکرات کے لیے وفد اسلام آبادبھیجنے کاابھی تک فیصلہ نہیں کیا، ایرانی وزارت خارجہ جنگ بندی میں توسیع نہیں چاہتا،ایران کے معاملے میں جلدبازی سے فیصلہ نہیں کروں گا، ٹرمپ امریکاوایران جنگ میں توسیع پر غورکریں، سفارتکاری کو موقع دیں، اسحاق ڈار ایران کی جانب سے امن مذاکرات میں شرکت کےلیے تصدیق کا انتظارہے، عطاتارڑ پاک بحریہ کا فضا سے سطح سمندر پر مار کرنے والے تیمور کروز میزائل کا کامیاب تجربہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں میں تیزی کیلئے نیا نظام منظور

واشنگٹن پوسٹ: 2025 میں پاک امریکہ تعلقات میں انقلابی تبدیلی، پاکستان کو فوقیت حاصل

Web Desk

22 December 2025

واشنگٹن پوسٹ کے تازہ آرٹیکل میں بتایا گیا ہے کہ 2025 کو پاک امریکہ تعلقات میں انقلابی تبدیلی کا سال قرار دیا جا رہا ہے۔ سابق امریکی صدر ٹرمپ کی جنوبی ایشیا پالیسی میں پاکستان کو مرکزی ستون بنایا گیا، جبکہ بھارت کو فوقیت دینے کا دور ختم ہو گیا۔

آرٹیکل کے مطابق پاک امریکہ تعلقات میں پہلا مثبت موڑ خفیہ کاؤنٹر ٹیررازم تعاون سے آیا، اور مارچ میں ٹرمپ نے پاکستان کی غیر متوقع تعریف کی جس نے واشنگٹن میں پالیسی کا رخ بدل دیا۔ مئی کی مختصر مگر شدید پاک بھارت جھڑپ کے بعد پاکستان کی ملٹری کارکردگی نے امریکی قیادت کو حیران کر دیا اور پاکستان کو دوبارہ سنجیدہ ریجنل ایکٹر کے طور پر دیکھا جانے لگا۔

واشنگٹن پوسٹ نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو نمایاں کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ٹرمپ کے انر سرکل میں اہم مقام حاصل کر گئے، ان کے لیے “Disciplined Dark Horse” اور “Deliberate Mystery” جیسے القابات دیے گئے، اور وائٹ ہاؤس میں لنچ میٹنگ کے لیے یہ پہلی بار ہوا کہ کسی پاکستانی ملٹری ہیڈ کو ریڈ کارپٹ استقبال ملا۔

آرٹیکل میں کہا گیا کہ 2026 کے آغاز پر پاکستان کو ٹرمپ کی گرینڈ اسٹریٹیجی کے مرکز کے قریب دیکھا جا رہا ہے، اور ایران، غزہ اور جنوبی ایشیا میں پاکستان کے ممکنہ کلیدی کردار کو اہم قرار دیا گیا۔ واشنگٹن میں India-first پالیسی کا دور ختم ہو چکا ہے اور نئی امریکی پالیسی کی پائیداری اسلام آباد اور دہلی کے رویے سے مشروط ہے۔