خلائی دوربین کا 22 سالہ مشن اختتام پذیر، ملبہ زمین پر گرنے کا خدشہ
Web Desk
6 November 2026
امریکی خلائی ادارے ناسا (NASA) کی مشہور و معروف خلائی دوربین ‘نیل گیہرلز سوئفٹ آبزرویٹری’ (Neil Gehrels Swift Observatory) کا 22 سالہ تاریخی مشن بالآخر اختتام پذیر ہو گیا ہے۔
امریکی خلائی فورس کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 3 ہزار 200 پاؤنڈ وزنی یہ خلائی دوربین امریکی مشرقی وقت کے مطابق صبح 7 بج کر 39 منٹ پر انڈونیشیا کے اوپر زمین کی فضا میں داخل ہوئی۔ شدید حرارت اور رگڑ کے باعث اس کا بیشتر حصہ فضا ہی میں جل کر تباہ ہو گیا، تاہم ناسا کا اندازہ تھا کہ کسی ٹکڑے کے گراؤنڈ پر لگنے سے کسی شخص کے متاثر ہونے کا امکان 2 ہزار 100 میں سے ایک ہے۔
اس دوربین کو 20 نومبر 2004ء کو فلوریڈا سے ڈیلٹا ٹو راکٹ کے ذریعے خلا میں بھیجا گیا تھا، جس کا بنیادی مقصد کائنات کے طاقتور ترین دھماکوں یعنی ‘گاما رے برسٹس’ (Gamma-ray Bursts) اور بلیک ہولز کا مشاہدہ کرنا تھا۔ گزشتہ چند برسوں میں سورج کی 11 سالہ شمسی چکر کی سرگرمیوں اور کورونا ماس ایجیکشنز کے باعث فضا پھیلنے سے دوربین کا مدار تیزی سے نیچے آتا چلا گیا۔ ناسا نے رواں سال جولائی میں ‘لنک’ (Linc) نامی خلائی جہاز کے ذریعے اسے بچانے کی کوشش کی، تاہم ریسکیو مشن کی ناکامی کے بعد دوربین بتدریج زمین پر آن گری۔
متعلقہ عنوانات
پاکستان اور روس کا آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور جدید کمپیوٹنگ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
6 November 2026
امریکی کمپنی کا رات کو سورج کی روشنی بیچنے کا منصوبہ
6 November 2026
چیٹ جی پی ٹی میں تصاویر کو جی آئی ایف بنانے کا نیا فیچر متعارف
5 November 2026
گوگل کی جانب سے نئی سوشل میڈیا ایپ ’یوٹیوب ٹمبا‘ متعارف کرائے جانے کا امکان
5 November 2026
خلائی دوربین کا 22 سالہ مشن اختتام پذیر، ملبہ زمین پر گرنے کا خدشہ
5 November 2026
واٹس ایپ چیٹ میں تازہ تصاویر اور ویڈیوز سے متعلق تجاویز کا فیچر شامل
5 November 2026
ایلومینیم سے طویل عمر والی بیٹری تیار کرنے کی راہ ہموار
5 November 2026
اے آئی کے گاڈ فادر جیفری ہنٹن کا اعتراف:شاید اے آئی کے بغیر دنیا زیادہ بہتر ہوتی
4 November 2026