LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سپریم کورٹ نے ملزم کی ضمانت منسوخ کرنے کیلئے 8 اصول طے کر دیئے تاجر برادری کے مطالبے پر جنوری میں مزید مال گاڑیاں چلائیں گے: وزیر ریلوے تھر کے کوئلے کی پیداوار بڑھا کر صنعتی ترقی کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے: شرجیل میمن تنقید کرنا آسان جبکہ عملی طور پر کام کرنا مشکل ہے: بلاول بھٹو سیاست میں ڈائیلاگ ضروری، پہلے پی ٹی آئی خود متحد ہو: فیصل کریم کنڈی امریکا نے ڈیڑھ سال میں مذاکرات کے چاروں ادوار سبوتاژ کیے: باقری کنی تنازع فلسطین کے دو ریاستی حل پر جلد عمل درآمد ضروری ہے: دفتر خارجہ وزیراعظم کا مجوزہ دورۂ روس، 148 کمپنیوں اور 169 نمائندوں کی فہرست تیار ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے سزا کے خلاف اپیلیں دائر کردیں وزیراعظم نے برآمدات بڑھانے کیلئے ٹی ڈی اے پی کو جدید بنانے کی منظوری دے دی پنجاب میں کرپشن کے الزامات، سالک حسین نے نوٹس ملنے کی تصدیق کردی پاکستان اور روس کا آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور جدید کمپیوٹنگ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق ازدواجی زندگی میں تشدد، زیادتی سے متعلق قانون سازی کی درخواست خارج ایران سے جنگ دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ جلد کروں گا: ٹرمپ آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کا کرایوں میں 5 فیصد کمی کا اعلان

سپریم کورٹ نے ملزم کی ضمانت منسوخ کرنے کیلئے 8 اصول طے کر دیئے

Web Desk

6 November 2026

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ملزم کی ضمانت منسوخ کرنے کے 8 اہم قانون اصول طے کر دیے ہیں، جن کے تحت اگر ضمانت کا حکم بادی النظر میں غیر قانونی یا ناانصافی پر مبنی ہو تو اسے منسوخ کیا جا سکتا ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر کے تحریر کردہ فیصلے کے مطابق ملزم کی جانب سے ضمانت کی رعایت کا ناجائز استعمال، گواہوں یا شواہد پر اثر انداز ہونے کی کوشش، فرار ہونے کا خدشہ، دوبارہ اسی نوعیت کے جرم کا ارتکاب یا تفتیش کے دوران نئے حقائق کا سامنے آنا ضمانت منسوخی کی بنیادی وجوہات بن سکتے ہیں۔ عدالتِ عظمیٰ نے لاڑکانہ میں غیر قانونی بجلی کی فراہمی کے دوران تار ٹوٹنے سے شہری نور حسین کی ہلاکت سے متعلق کیس میں سندھ ہائیکورٹ کا ملزم علی اصغر کھوکھر کی ضمانت کا فیصلہ برقرار رکھا اور ایف آئی آر کے اندراج میں 9 ماہ کی تاخیر کو مزید تحقیق کا تقاضا قرار دیا۔ سپریم کورٹ نے فیصلے کی نقل چیئرمین واپڈا کو بھی ارسال کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ بجلی کی غیر قانونی فراہمی اور چوری میں ملوث افراد کے خلاف متعلقہ یوٹیلیٹی کمپنیوں کے ذریعے جائزہ لیا جا سکے۔