LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا اور اسرائیل ایران پر بڑے حملوں کی تیاری کر رہے ہیں: امریکی میڈیا پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر مثبت رجحان بلوچستان میں ٹرین سروس ایک روز کے لئے معطل مٹی سے سونے کا قیمتی نگٹ برآمد ایرانی عدالت نے ایوارڈ یافتہ فلمساز کو 5 سال قید کی سزا سنادی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات کیلئے پولنگ کا آغاز ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیخلاف کیس کا فیصلہ آج سنایا جائے گا سکھیکی: مسافر بس سیم نالے میں گر گئی، 5 افراد جاں بحق، 40 زخمی برطانیہ نے 3 جوہری آبدوزوں کو ایک ساتھ سمندر میں اتار دیا 24 گھنٹوں میں یمنی فوج کی 749 ٹارگٹڈ کارروائیاں، 239 حوثی ہلاک یا زخمی اسرائیلی حملے، غزہ میں کم از کم 5 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے نیتن یاہو کے حریف گادی آئزن کوٹ کا اسرائیل میں تبدیلی لانے کے عزم کا اعادہ اسرائیل میں سیاسی ڈیڈ لاک کا خدشہ، نیتن یاہو کا اقتدار خطرے میں پڑ گیا ایران سفارت کاری کے ذریعے حل کیلئے ثالثوں سے قریبی رابطے میں ہے، عباس عراقچی بانی پی ٹی آئی کی بہن نورین نیازی جیل سے پنجاب کارڈیالوجی منتقل

برطانیہ:17 کروڑ سال قدیم سمندری ڈائنو سارکی باقیات دریافت

Web Desk

29 October 2026

برطانیہ میں سیاحوں کے ہاتھوں اتفاقیہ طور پر دریافت ہونے والی ایک دیوہیکل سمندری ڈائنوسار کی باقیات کو پہلی بار باضابطہ طور پر نمائش کے لیے پیش کر دیا گیا ہے۔

تقریباً 17 کروڑ 40 لاکھ سال قبل قدیم سمندروں میں راج کرنے والے 10 میٹر لمبے اس دیوہیکل ’اِکتھیوسار‘ (Ichthyosaur) کی فوسل شدہ ہڈیاں بالکل اتفاقیہ طور پر دریافت ہوئیں۔ یہ ایک انتہائی خوفناک قدیم سمندری شکاری تھا۔ بیلجیئم سے تعلق رکھنے والے دو سیاح، مشیل پلسارٹ اور کیرین کرسٹنز، انگلینڈ کے علاقے ڈورسیٹ میں بریڈپورٹ کے قریب ساحل پر سیر کر رہے تھے کہ اچانک ان کی نظر چٹان کے ایک ایسے حصے پر پڑی جس میں سے فوسل ہڈیوں کے ٹکڑے باہر نکلے ہوئے تھے۔

دونوں سیاحوں نے قریب جا کر جب اس کا معائنہ کیا تو انہوں نے ہڈی کا ایک ٹکڑا احتیاط سے نکال کر مزید جانچ پڑتال کے لیے ماہرین کے حوالے کر دیا۔ یہ حیرت انگیز فوسل برطانیہ میں اب تک دریافت ہونے والی اپنی نوعیت کی سب سے کم عمر باقیات قرار دی جا رہی ہیں۔ اس اہم دریافت سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اِکتھیوسار جیسے سمندری جاندار ایک بڑی عالمی ماحولیاتی تباہی کے تقریباً 90 لاکھ برس بعد بھی دنیا کے سمندروں میں موجود تھے، جبکہ اس سے قبل یہ خیال کیا جاتا تھا کہ اس تباہی نے ان کا مکمل خاتمہ کر دیا تھا۔

ظاہری ساخت کے لحاظ سے ڈولفن سے مشابہ یہ قدیم رینگنے والے جانور سمندر کے اندر رہتے تھے لیکن آکسیجن کے لیے پانی کی سطح پر آ کر ہوا میں سانس لیتے تھے۔ اِکتھیوسار کی چھوٹی اقسام عام طور پر چھوٹی مچھلیوں اور اسکوئڈ کا شکار کرتی تھیں، تاہم ڈورسیٹ کے ساحل بریڈپورٹ میں دریافت ہونے والا یہ دیوہیکل اِکتھیوسار اپنی جسامت کے اعتبار سے دوسرے بڑے سمندری رینگنے والے جانوروں کو اپنا نشانہ بناتا ہوگا۔