LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
بانی پی ٹی آئی کی بہن نورین نیازی جیل سے پنجاب کارڈیالوجی منتقل وزیراعظم نے مسلم لیگ ن خیبر پختونخوا کا اہم اجلاس آج طلب کر لیا پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی حکومت سے مذاکرات کی حامی، طریقہ کار پر رہنما تقسیم اردوان کا ٹرمپ سے رابطہ، ترکیہ کی امن بحالی کی کوششوں سے آگاہ کیا امریکا کی امن مذاکرات بحال کرنے کی کوشش، جے ڈی وینس کا ایرانی عہدیدار کو خط تھرپارکر: ایمبولینس میں سلنڈر دھماکا، 8 افراد جاں بحق، 4 شدید زخمی راولاکوٹ میں فائرنگ سے پولیس اہلکار اور شہری زخمی، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج گاڑی سمیت اغوا پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ، نئی قیمتیں مقرر اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کا اتحاد واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام، دھاندلی کے الزامات پاک افغان سرحد پر فائرنگ سے متعلق افغان طالبان کا بیان جھوٹا، من گھڑت قرار میر رضا کیس: سندھ حکومت نے جوڈیشل کمیشن کی ہدایت پر جے آئی ٹی تشکیل دے دی ٹرمپ کے تعاون سے ایران کا خطرہ ہمیشہ کیلئے ختم کرنا چاہتے ہیں، نیتن یاہو لطف آباد میں گھر کی دوسری منزل پر پراسرار آتشزدگی، بیوہ ماں اور دو کمسن بیٹیاں جاں بحق، قتل کا شبہ اسرائیلی انتخابات: ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو اتحاد کی برتری، اکثریت سے دور شہباز شریف نے مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا

پنجاب میں انسدادِ سموگ کارروائیاں تیز، ایک ماہ میں 197 بھٹے مسمار، 163 سیل

Web Desk

28 October 2026

محکمہ ماحولیات پنجاب نے صوبے میں سموگ کی روک تھام کے لیے جاری انسدادِ کارروائیوں کے دوران گزشتہ ایک ماہ میں ماحولیاتی قوانین کی سنگین خلاف ورزی پر 197 غیر معیاری اینٹوں کے بھٹے مسمار اور 163 سیل کر دیے ہیں، جبکہ قواعد توڑنے والوں کے خلاف 162 مقدمات درج کرتے ہوئے مجموعی طور پر 4 کروڑ 7 لاکھ روپے کے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔

محکمہ ماحولیات کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 28 ستمبر سے 27 اکتوبر کے دوران صوبے بھر میں کل 11 ہزار 580 اینٹوں کے بھٹوں کی انسپکشن کی گئی۔ صنعتی آلودگی کے خلاف سخت کارروائیوں کے سلسلے میں 6 ہزار 650 صنعتی یونٹس کی جانچ پڑتال کی گئی، جن میں سے 22 یونٹس مسمار اور 191 سیل کیے گئے، جبکہ خلاف ورزیوں پر 333 سموگ نوٹس جاری کرنے کے ساتھ 15 مقدمات درج کیے گئے اور 2 کروڑ 80 لاکھ روپے جرمانے عائد کیے گئے۔ محکمہ ماحولیات نے پلاسٹک جلانے کے خلاف بھی گھیرا تنگ کرتے ہوئے 6 ہزار 064 مقامات کا معائنہ کیا اور 45 ہزار 100 کلوگرام ممنوعہ پلاسٹک ضبط کر کے 152 مقامات سیل کر دیے۔

صنعتی یونٹس میں فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے سکشن ہڈز (Suction Hoods) کی تنصیب کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے، جس کے تحت 4 ہزار 204 صنعتی یونٹس کی جانچ پڑتال کی گئی اور ماحولیاتی تقاضوں سے روگردانی کرنے والے 333 مقامات سیل کر دیے گئے۔ اس کے علاوہ تعمیراتی سرگرمیوں سے اٹھنے والے گردوغبار کو روکنے کے لیے صوبے کی 397 یونین کونسلز میں کارروائیاں کی گئیں اور 49 مقامات پر مسٹ سپرنکلرز نصب کیے گئے۔ فصلوں کی باقیات (پরাل) جلانے کی حوصلہ شکنی کے لیے زرعی علاقوں میں 67 کوئیک رسپانس یونٹس مکمل طور پر فعال ہیں، جو سیٹلائٹ اور فیلڈ مانیٹرنگ کے ذریعے خلاف ورزیوں کی نشاندہی کر رہے ہیں جبکہ لاہور میں اینٹی سموگ گنز کا استعمال بھی جاری ہے۔ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) ماحولیات عبداللہ نیئر شیخ نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ صوبے میں آلودگی پھیلانے والوں کے خلاف ‘زیرو ٹالرنس’ پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے، اور ڈرونز، نائٹ اسکواڈز اور فیلڈ ٹیمیں مسلسل متحرک رہ کر ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف جرمانے، مقدمات اور سیلنگ کی کارروائیاں جاری رکھیں گی۔