LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران عام ریاست بننے کا فیصلہ کرے تو ترقی کے بڑے مواقع مل سکتے ہیں: مارکو روبیو آئی اے ای اے کے انسپکٹرز ایران کی جوہری تنصیبات کا دورہ کریں گے، ٹرمپ امریکا سے آئندہ مذاکرات اعلیٰ سطح کی کمیٹی کی نگرانی میں ہوں گے: کاظم غریب آبادی گوجرانوالہ دن دیہاڑے لڑکی کو اغوا کرنے کی کوشش اسلام آباد اتوار بازار میں آگ بھڑک اٹھی ایرانی صدر دورہ پاکستان مکمل کرنے کے بعد وطن روانہ وزیراعظم اور ایرانی صدر کی پریس کانفرنس، مشترکہ امن کوششوں کا اعادہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو ‘سی پی ایس پی’ کی جانب سے اعزازی فیلوشپ ڈگری سے نواز دیا گیا آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت خطے میں امن کی بڑی کامیابی ہے: وزیراعظم لبنان اور اسرائیل میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز، واشنگٹن میں مذاکرات کا پانچواں دور شروع اپوزیشن کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا ہنگامی اجلاس، اسپیکر قومی اسمبلی کے رویے کے خلاف مذمتی قرارداد منظور، بجٹ مسترد پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس، چار بلز کی منظوری پاکستان اور ایران کا برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ فیلڈمارشل سے ایرانی صدر کی ملاقات، علاقائی استحکام کیلئے پاکستان کے کردار کو سراہا

ڈک چینی: امریکا کے طاقتور نائب صدر اور سیاست کے پیچیدہ ستون

Web Desk

4 November 2025

ڈک چینی امریکی سیاست کی ان شخصیتوں میں سے ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنے عہدے کی ذمہ داریاں نبھائیں بلکہ ملک کی داخلی اور خارجی پالیسیوں پر گہرا اثر ڈالا۔

وہ جارج ڈبلیو بش کے دور صدارت (2001–2009) میں امریکا کے نائب صدر رہے اور ان کی قیادت امریکی تاریخ کے ایک متنازع اور اہم دور کی نمائندگی کرتی ہے۔چینی کا سیاسی کیریئر کانگریس کے رکن سے شروع ہوا اور بعد میں مختلف دفاعی اور انتظامی عہدوں پر فائز رہنے کے بعد وہ نائب صدر بنے۔ ان کی شخصیت کی سب سے بڑی خصوصیت حکمت عملی، دور اندیشی، اور ملکی مفاد کو مقدم رکھنے کا جذبہ تھا۔ وہ آسان فیصلے نہیں کرتے تھے، بلکہ ضرورت پڑنے پر مشکل، پیچیدہ اور متنازع فیصلے کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے تھے۔نائن الیون کے بعد امریکا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کا کردار سب سے نمایاں رہا۔ عراق اور افغانستان میں فوجی کارروائیوں میں ان کی رائے کلیدی حیثیت رکھتی تھی۔ بعض اوقات ان کے فیصلوں پر شدید تنقید بھی ہوئی، خاص طور پر عراق کی جنگ اور داخلی سکیورٹی اقدامات کے حوالے سے، مگر ان کے حامی انہیں ملکی سلامتی کے لیے بلاامتیاز اور مضبوط رہنما کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ڈک چینی کی سیاست کی سب سے بڑی طاقت ان کا اپنے موقف پر قائم رہنا اور حالات کے باوجود سچائی کے ساتھ فیصلے کرنا تھی۔ وہ ہمیشہ ملکی مفاد کو مقدم رکھتے، چاہے ان کے فیصلے عوام یا میڈیا کے لیے مشکل کیوں نہ ہوں۔ یہی ان کی شخصیت کو دیگر سیاسی شخصیات سے ممتاز بناتا ہے۔نائب صدارت کے بعد بھی، ڈک چینی نے مختلف بین الاقوامی مشاورتی اداروں اور دفاعی امور میں خدمات انجام دیں اور امریکی سیاست میں اثر و رسوخ برقرار رکھا۔ ان کی زندگی اور فیصلے ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ طاقت صرف عہدے یا اختیار میں نہیں بلکہ سچائی، استقامت اور ملکی مفاد کے لیے فیصلہ کرنے کی ہمت میں ہوتی ہے۔2025 میں ڈک چینی کا انتقال امریکی سیاست میں ایک دور کے اختتام کی علامت ہے۔ ان کی قیادت، پیچیدہ فیصلے اور دور اندیشی آج بھی سیاسی مباحثوں اور تاریخ میں یادگار رہیں گ