LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
محمود اچکزئی نے اپوزیشن کو حکومت سے مذاکرات کیلئے ہدایات جاری کر دیں امریکا ایران مذاکرات کیلئے پاکستان کا کردار قابل تحسین ہے: انتونیو گوتریس وزیراعظم کی پی ٹی آئی کو لانگ مارچ ختم کرکے مذاکرات کرنے کی پیشکش ایل این جی سپلائی پر خدشات، حکومت کا قطر سے 3 کارگو لینے کا فیصلہ پی ٹی آئی کے پاس لوگ نہیں، لانگ مارچ اٹک سے آگے نہیں جا سکتا: گورنر خیبرپختونخوا لاہور میں غیر قانونی کال سینٹر کے خلاف بڑی کارروائی، 39 افراد گرفتار پی ٹی آئی لانگ مارچ کے باعث میٹرک کے سپلیمنٹری امتحانات ملتوی ایران کی ناکہ بندی: امریکا کا 130 تجارتی جہاز موڑنے اور 13 تباہ کرنے کا دعویٰ امریکا: دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی بار فائرنگ کے ذریعے سزائے موت کا اعلان اپوزیشن اور حکومت کے درمیان دوبارہ مذاکرات کی امید ہے: فواد چودھری سعودی اتحادی افواج کا آپریشن فجر الیمن، تعز میں 250 حوثی جنگجو ہلاک پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات رواں ہفتے مکمل ہوجائیں گے پاکستان سری لنکا ٹی20 اور سہ ملکی کرکٹ سیریز کیلئے ٹریفک پلان جاری ایران سے متعلق صدر ٹرمپ کے متنازع بیان پر وائٹ ہاؤس کی وضاحت، کیلیفورنیا کی قیادت شدید برہم ربیع 2026-27ء کے لیے 22 فیصد پانی کی کمی کا خدشہ: ارسا نے صوبوں کا کوٹہ مقرر کر دیا

واضح احکامات نہ ملنے پر ڈی آئی خان قافلہ واپس بلایا، تصادم نہیں چاہتے: علی امین گنڈاپور

Web Desk

4 October 2026

خیبرپختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے میڈیا کے لیے جاری کردہ اپنے اہم بیان میں بتایا ہے کہ انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے لانگ مارچ میں شرکت کے لیے ڈیرہ اسماعیل خان (ڈی آئی خان) سے ہزاروں کارکنان اور گاڑیوں پر مشتمل سب سے بڑے قافلے کے ساتھ پیش قدمی کی۔ انہوں نے بتایا کہ یارک ٹول پلازہ کے مقام پر پولیس نے دفعہ 144 کے نفاذ کا حوالہ دیتے ہوئے قافلے کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔ انتظامیہ اور وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ سے رابطے کے باوجود آگے جانے کے واضح احکامات موصول نہ ہونے پر مقامی تنظیم اور کارکنان کی مشاورت سے قافلے کی ڈیرہ اسماعیل خان واپسی کا فیصلہ کیا گیا۔

علی امین گنڈاپور نے وضاحت کی کہ وہ کارکنان کی زندگیوں کو کسی صورت خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتے اور واضح قیادت کے بغیر کسی بھی تصادم کا راستہ اختیار نہیں کریں گے۔ پارٹی قیادت اور وزیراعلیٰ کی ہدایات کے تحت پرامن رہنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاہم قافلے تمام تر سفری اور لاجسٹک انتظامات کے ساتھ مکمل تیار ہیں اور صرف دو گھنٹے کے نوٹس پر صوابی یا اسلام آباد کا رخ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کارکنان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اگر قیادت نے باضابطہ حکم دیا تو اپنے مقصد کے حصول کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔