LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
آبنائے ہرمز کا فیصلہ ٹرمپ کی کھوکھلی سوشل میڈیا پوسٹس نہیں کریں گی، ایرانی ڈپٹی سپیکر شامی صدر کی سعودی ولی عہد سے ملاقات، خطے کی تازہ صورتحال پر گفتگو امریکا اقتصادی جنگ کی طرح فوجی محاذ میں بھی ناکام ہوگا: محسن رضائی روس کیساتھ جنگ کی تیاری سے متعلق نیٹو کے بیانات پر نظر رکھے ہوئے ہیں، سرگئی لاوروف یوکرینی ڈرونز کا پرومائسک پر بڑا حملہ، 7 رہائشی عمارتوں اور سٹی آرکائیو متاثر بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے طبی معائنوں کی تفصیلات سامنے آگئیں سرکاری حج سکیم دوسری قسط: 22 ہزار 172 عازمین نے ادائیگی مکمل کرلی جنگ ختم کرنے کیلئے تیار، ایران کو یورینیم افزدگی کم کرنا ہوگی: امریکا کا دوٹوک مؤقف اپوزیشن جماعتوں کا آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کی تجویز پر مشاورت کا فیصلہ مذاکرات کی پیشکش موجود، پی ٹی آئی کو لانگ مارچ ختم کرنا ہو گا: رانا ثناء اللہ بحیرہ احمر میں امریکی ہیلی کاپٹر گرنے کی خبر بے بنیاد ہے: امریکی سینٹکام ابوظہبی میں اے آئی ایوری تھنگ گلوبل 2026، پاکستان پویلین کا افتتاح بانی پی ٹی آئی کے کزن قاسم زمان کی 30 روزہ نظر بندی کے احکامات جاری اسحاق ڈار سے برطانوی وزیر مملکت اسٹیفن ڈاؤٹی کی ملاقات، تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کو نشانِ امتیاز عطا کردیا گیا

ایران کی ناکہ بندی: امریکا کا 130 تجارتی جہاز موڑنے اور 13 تباہ کرنے کا دعویٰ

Web Desk

7 October 2026

ایران کے خلاف جاری امریکی بحری ناکہ بندی (Naval Blockade) کو سخت کرتے ہوئے امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی افواج نے مشرقِ وسطیٰ کے سمندری راستوں میں 130 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا ہے۔ سینٹ کام کے مطابق یہ کارروائی ان بحری جہازوں کو روکنے کے لیے کی گئی جو امریکی پابندیوں یا احکامات کی خلاف ورزی کر رہے تھے یا مبینہ طور پر ایران سے منسلک مشکوک سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ امریکی فوج کا مزید کہنا ہے کہ احکامات پر عمل نہ کرنے والے 3 جہازوں کو ناکارہ بنا دیا گیا، جبکہ گزشتہ 12 ہفتوں کے دوران مجموعی طور پر 13 تجارتی جہازوں کو تباہ کیا جا چکا ہے جو ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے خفیہ مالیاتی نیٹ ورک کا حصہ تھے۔

امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور بحیرہ عرب میں ایرانی سفارتی اور معاشی ناکہ بندی کو یقینی بنانے کے لیے نگرانی کی یہ بحری کارروائیاں جاری رہیں گی۔ دوسری جانب، ان اہم عالمی سمندری راہداریوں پر بحری کشیدگی سے عالمی سطح پر تیل اور تجارتی اشیاء کی فراہمی متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ فی الحال امریکی فوج کے ان دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی اور نہ ہی ایران کی جانب سے ان مخصوص تجارتی جہازوں کی تباہی سے متعلق کوئی باضابطہ عکسِ العمل یا ردِعمل سامنے آیا ہے۔