LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سعودی عرب کا سیاحتی ویزا سے متعلق اہم فیصلہ ب مجھے نفسیاتی طور پر اسپرین کی ضرورت ہے، ٹرمپ تیل کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہوگئے، آرامکو سربراہ کا انتباہ خیبر پختونخوا کی صورتحال اور پی ٹی آئی کا لانگ مارچ، وزیراعظم کا صدر زرداری سے جلد دوبارہ ملاقات کا فیصلہ ایران سے براہِ راست مذاکرات کیلئے تیار ہیں : صدر ٹرمپ کا اعلان بھاگنے کی عادت پرانی، ہر مشکل میں کارکنوں کو آگے کرکے خود پیچھے ہٹ جاتے ہیں: فیصل کریم ریاست خیرپور کے آخری حکمران میر علی مراد خان تالپور انتقال کر گئے مالی سال 2026-27 کے پہلے تین ماہ کے دوران ترقیاتی اخراجات کی رپورٹ جاری لائیو سٹاک برآمدات بڑھانے کیلئے خصوصی فارم ہاؤسز قائم کرنے کی منظوری حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا دشمن کی اگلی غلطی نئے محاذ اور مزید حیران کن نتائج لائے گی، محسن رضائی مذاکرات ناکامی کی دو بنیادی وجوہات، اپوزیشن وفد بے اختیار تھا: طارق فضل چودھری ایمان اور ہادی چٹھہ ضمانت کیس: ریکارڈ پیش نہ کرنے پر جج برہم اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل آج پاکستان پہنچیں گے، اہم ملاقاتیں شیڈول امن جرگہ مشترکہ اعلامیے پر عملدرآمد کیا جائے، سپیکر کے پی اسمبلی کا وزیراعظم کو خط

بانی پی ٹی آئی تک رسائی نہ ملنا مذاکرات کی ناکامی کا سبب بنا، صرف طاقت سے دہشت گردی ختم نہیں ہو سکتی: پی ٹی آئی

Web Desk

4 October 2026

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) اور تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان نے حکومتی وفد کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ پی ٹی آئی ترجمان کے مطابق مذاکراتی عمل میں بنیادی رکاوٹ بانی پی ٹی آئی عمران خان تک فوری رسائی کا مطالبہ بنا؛ اپوزیشن نے اپنے دیگر تمام مطالبات مؤخر کرنے کی پیشکش کی مگر بانی پی ٹی آئی تک رسائی کو لازمی شرط قرار دیا، جسے حکومت نے معاہدے کا حصہ بنانے سے انکار کر دیا۔ پی ٹی آئی نے مؤقف اپنایا کہ سیاسی اور قومی سلامتی کے اہم امور پر پارٹی سربراہ سے مشاورت جمہوری عمل کا حصہ ہے۔ اس کے علاوہ بانی کی شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقلی اور ذاتی معالج پر مشتمل میڈیکل بورڈ کے قیام کا مطالبہ بھی پورا نہیں کیا گیا، جبکہ حکومت کی جانب سے منگل سے صرف خاندانی اور قانونی ملاقاتوں کی بحالی پر اتفاق ہوا جسے پی ٹی آئی نے طبی معائنے کا متبادل ماننے سے انکار کر دیا۔

خیبر پختونخوا کی سیکیورٹی اور انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات کے حوالے سے پی ٹی آئی نے کہا کہ حکومت ضم شدہ اضلاع میں 72 گھنٹوں کے اندر ہنگامی آپریشنز اور وفاقی اقدامات کی غیر مشروط حمایت مانگ رہی تھی۔ تحریکِ انصاف نے افواجِ پاکستان اور پولیس کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ صرف یکطرفہ طاقت کے استعمال سے دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں، بلکہ 72 گھنٹوں کے اندر وفاق اور صوبائی حکومت کے نمائندوں کا مشترکہ اجلاس بلا کر قبائلی عمائدین، سیاسی جماعتوں اور مقامی اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے متفقہ حکمت عملی بنائی جائے۔ پی ٹی آئی نے ناکامی کا ملبہ صرف اپوزیشن پر ڈالنے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سنجیدہ مذاکرات طے شدہ شرائط کی بجائے باہمی لچک اور اعتماد سے آگے بڑھتے ہیں۔