LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
راولپنڈی میں غیر قانونی کال سینٹر پر چھاپے میں 61 ملزمان گرفتار شنگھائی تعاون تنظیم کا کوآرڈینیشن اجلاس، بھارتی وفد کی اسلام آباد آمد پی ٹی آئی کالعدم ٹی ٹی پی کی بی ٹیم، مالی معاونت میں ملوث ہے: وفاقی وزرا ٹانک: پولیس وین پر دہشت گردوں کا حملہ، فائرنگ سے 3 اہلکار شہید نیتن یاہو اچانک ابوظہبی پہنچ گئے، اماراتی صدر سے ملاقات کی: برطانوی میڈیا خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے تمام قانونی تقاضے پورے، کچھ بھی ہوسکتا ہے: امیر مقام میر رضا علی قتل کیس: جوڈیشل کمیشن کی مدت ختم، کارروائی 2 اکتوبر تک ملتوی اسلام آباد ہائیکورٹ: پی ٹی آئی لانگ مارچ کے باعث اٹک پل اور راستوں کی بندش کے خلاف کیس امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا نیا دور آج ہوگا عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک فیصد سے زائد اضافہ آبنائے ہرمز میں امریکی زیرِ آب ڈرون پکڑنے کا ایرانی دعویٰ، واشنگٹن نے مسترد کردیا خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے آپشن پر بیک ڈور کام چل رہا ہے،طارق فضل چوہدری پاک بحریہ کی نئی شامل کی گئی آبدوز کی پہلی لائیو ویپن فائرنگ کامیابی سے مکمل عازمینِ حج کی سہولت کے لیے پاک حج ایپ میں متعدد نئے فیچرز متعارف پاکستان نے افغانستان میں اندرونی جھڑپوں سے متعلق الزامات مسترد کردیے

ویران جزیرے پر 34 سال بعد بچے کی پیدائش

Web Desk

28 September 2026

سکاٹ لینڈ کے انتہائی دور دراز اور ویران جزیرے ’نارتھ رونالڈسے‘ (North Ronaldsay) پر 34 سال کے طویل عرصے کے بعد بالآخر پہلی بار کسی بچے کی پیدائش ہوئی ہے، جس نے جزیرے کی گھٹتی ہوئی آبادی میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔

ڈنکن نامی یہ نومولود بچہ 15 ستمبر 2026 کو نارتھ رونالڈسے میں پیدا ہوا۔ یہ علاقہ اورکنی (Orkney) کا شمالی جزیرہ ہے جو محض تین میل لمبا اور دو میل چوڑا ہے۔ بچے کی والدہ ٹریل فورڈ (Trail Ford) اور ان کے منگیتر جارج سواریز اصل میں کوسٹا ریکا میں اس بچے کی پیدائش کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، اور انہوں نے جزیرے پر پہنچنے کے بعد واپسی کے ٹکٹس بھی پہلے سے بک کروا رکھے تھے۔ تاہم، نارتھ رونالڈسے پہنچنے کے بعد حالات نے پلٹا کھایا اور انہوں نے یہیں بچے کی پیدائش کا فیصلہ کیا۔

والدہ ٹریل فورڈ کا کہنا تھا کہ “مجھے فوراً احساس ہوا کہ یہ دنیا کی سب سے خاص، جادوئی اور معاون پیدائش ہوگی جو میں اپنے بچے کو دے سکتی ہوں۔” دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹریل فورڈ کے خاندان نے سال 1727 میں یہ جزیرہ خریدا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس جزیرے کے ساتھ ان کا آبائی اور خونی رشتہ ہی انہیں ہر سال یہاں کھینچ لاتا ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ اس جزیرے نے ان کی پرورش میں بنیادی کردار ادا کیا ہے، اور اسی وجہ سے انہوں نے یہاں کی پرسکون توانائی اور خاص طور پر اپنے آبائی گھر میں گہری اپنائیت محسوس کی۔

سکاٹش حکومت کے 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق اس جزیرے کی کل آبادی 72 افراد پر مشتمل تھی، جو اب کم ہو کر صرف 51 رہ گئی ہے۔

جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ اتنے طویل عرصے تک اس جزیرے پر کوئی بچہ کیوں پیدا نہیں ہوا، تو اس کی بنیادی وجہ صحت کی سہولیات کا فقدان ہے۔ جزیرے پر نہ تو کوئی باقاعدہ ڈاکٹر ہے اور نہ ہی کوئی ہسپتال، بلکہ طبی ضروریات کے لیے صرف ایک مقامی نرس موجود ہوتی ہے، جس کی وجہ سے حاملہ خواتین عام طور پر قریبی شہروں کا رخ کرتی ہیں۔