LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا نیا دور آج ہوگا عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک فیصد سے زائد اضافہ آبنائے ہرمز میں امریکی زیرِ آب ڈرون پکڑنے کا ایرانی دعویٰ، واشنگٹن نے مسترد کردیا خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے آپشن پر بیک ڈور کام چل رہا ہے،طارق فضل چوہدری پاک بحریہ کی نئی شامل کی گئی آبدوز کی پہلی لائیو ویپن فائرنگ کامیابی سے مکمل عازمینِ حج کی سہولت کے لیے پاک حج ایپ میں متعدد نئے فیچرز متعارف پاکستان نے افغانستان میں اندرونی جھڑپوں سے متعلق الزامات مسترد کردیے یونانی دارالحکومت ایتھنز میں دھماکا،4 امریکیوں سمیت 6 افراد ہلاک راولپنڈی اور اسلام آباد میں انٹرنیٹ سروس متاثر، شہریوں کو مشکلات کا سامنا سہیل آفریدی کوبانی پی ٹی آئی کا مکمل اعتماد حاصل ہے، چیئرمین پی ٹی آئی ایران تجارت نہیں کرسکتا تو کوئی بھی تجارت نہیں کرے گا،ایرانی آرمی چیف یمنی فورسز کا حالیہ حملوں میں 4 ایرانی عسکری ماہرین کی ہلاکت کا دعویٰ امریکا صرف ایران کو مٹانے یا تباہ کرنے کا خواب ہی دیکھ سکتا ہے، ایرانی صدر ایرانی فوج کا خطے میں واشنگٹن کی کسی بھی فوجی کارروائی کا بھرپور جواب دینے کا اعلان دھمکیوں اور پابندیوں سے اپنی مرضی مسلط کرنے کا دور ختم ہو رہا ہے، کاظم غریب آبادی

دو چینی پانڈا 10 سالہ قیام کے لیے امریکا روانہ، چین کی ’پانڈا ڈپلومیسی‘ کیا ہے؟

Web Desk

28 September 2026

چین کے شہر چینگدو سے دو دیوہیکل پانڈا 10 سالہ طویل قیام کے لیے امریکی ریاست جارجیا کے شہر اٹلانٹا روانہ کر دیے گئے ہیں۔ چینی حکام کے مطابق اتوار کی صبح ‘پنگ پنگ’ اور ‘فو شوانگ’ نامی ان دونوں پانڈاؤں کو خصوصی چارٹرڈ پرواز کے ذریعے چینگدو شوانگ لیو انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اٹلانٹا کے لیے روانہ کیا گیا۔ روانگی سے قبل ‘چینگدو ریسرچ بیس آف جائنٹ پانڈا بریڈنگ’ میں ایک پروقار الوداعی تقریب کا انعقاد بھی کیا گیا، جبکہ طویل سفر کے دوران ان کی صحت اور ذہنی سکون کو برقرار رکھنے کے لیے تازہ بانس، کونپلیں، سیب اور ادویات فراہم کی گئی ہیں۔ پرواز کے دوران چینی و امریکی ماہرین ان کی دیکھ بھال کریں گے، جبکہ اٹلانٹا پہنچنے پر انہیں ابتدا میں قرنطینہ میں رکھ کر طبی معائنہ کیا جائے گا۔

یہ پیش رفت چین کی مشہور ‘پانڈا ڈپلومیسی’ کا حصہ ہے، جس کے تحت بیجنگ انتظامیہ دنیا بھر کے ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہتری، ثقافتی کشش اور تحفظِ جنگلی حیات کے فروغ کے لیے ان نایاب جانوروں کو معاہدوں کے تحت غیر ملکی چڑیا گھروں کو بھیجتی ہے۔ اس تاریخی روایت کو 1972 میں اس وقت عالمی شہرت ملی جب امریکی صدر رچرڈ نکسن کے دورۂ چین کے بعد بیجنگ نے امریکہ کو دو پانڈا تحفے میں دیے تھے۔ 1984 کے بعد سے چین نے پانڈاز کو مستقل تحفے کے بجائے تحقیقاتی معاہدوں کے تحت بھیجنا شروع کیا، جن کے تحت بیرونِ ملک پیدا ہونے والے پانڈا کے بچے بھی چینی ملکیت ہی رہتے ہیں اور بعد میں چین واپس بھیجے جاتے ہیں۔