LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جماعت اسلامی ٹرین مارچ، عوامی حقوق کی تحریک جاری ر ہے گی: حافظ نعیم الرحمان ماسکو کی جانب آنے والے 338 ڈرونز تباہ، آئل ریفائنری کی تنصیب کو نقصان باقر قالیباف کی قطر اور پاکستان کے ذریعے امریکا کو پیغامات پہنچانے کی تصدیق بانی پی ٹی آئی عمران خان کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کی علیمہ خان کی گرفتاری کی شدید مذمت؛ فوری رہائی کا مطالبہ حکومت کا آج سے بجلی کی خرید و فروخت سے دستبرداری کا اعلان عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ 3 ایم پی او کے تحت گرفتار خاران میں دہشت گردوں کا مسافر گاڑی پر آئی ای ڈی حملہ، مزدور زخمی وزیر داخلہ محسن نقوی کی شہید کیپٹن حمزہ اکرم کے گھر آمد، اہلخانہ سے تعزیت صاف ستھرا پنجاب صحت مند اور خوشحال مستقبل کی بنیاد ہے، مریم نواز جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں شرکت کیلئے اسحاق ڈار نیویارک روانہ ملک بھر میں ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ شروع، ایک لاکھ 38 ہزار 158 امیدوار شریک کوئٹہ میں سماجی کارکن عبدالستار ایدھی کا مجسمہ دوبارہ نصب آج کراچی کینٹ ریلوے سٹیشن سے تاریخی مارچ کا آغاز ہوگا: حافظ نعیم الرحمان حوثی ملیشیا کا ریاض کی طرف داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا

آوارہ کتوں کیخلاف ایکشن نہ لینےپر مظاہرین نے انتظامیہ کے دفتر میں کتے چھوڑ دیے

Web Desk

18 September 2026

بھارت میں عوامی احتجاج کا ایک انتہائی دلچسپ اور انوکھا واقعہ پیش آیا ہے جہاں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور انتظامیہ کی عدم توجہی سے تنگ آئے مظاہرین نے میونسپل افسر کے دفتر میں ہی زندہ کتے چھوڑ دیے۔ یہ واقعہ بھارتی ریاست مہاراشٹرا کے ضلع ناسک کی تحصیل نپھاڑ میں پیش آیا، جہاں مقامی شہری اور سیاسی کارکن آوارہ کتوں کے حملوں اور انتظامی بے حسی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

مظاہرین نپھاڑ نگر پنچایت کے چیف ایگزیکٹو آفیسر دھیرج بھامرے کے دفتر میں داخل ہوئے اور ان سے شدید احتجاج کیا۔ اس دوران ‘یوا سینا’ کے ضلعی سربراہ وکرم راندھوے نے ایک بوری میں لائے گئے آوارہ کتوں کو افسر کی میز پر ہی آزاد کر دیا، جس سے دفتر میں افراتفری مچ گئی۔ یہی نہیں بلکہ احتجاج کے دوران مظاہرین نے چیف آفیسر کو نوٹوں کی مالا پہنانے کی بھی کوشش کی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ علاقے میں آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے جس سے بچوں، بزرگوں اور سواریوں کو شدید خطرات لاحق ہیں، تاہم بار بار کی شکایت کے باوجود انتظامیہ کسی قسم کی مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔