LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ہیلری کلنٹن نے ٹرمپ کو جھوٹ بولنے کے اولمپک چیمپئن قرار دے دیا برطانوی ادارے کا پاکستان کے ٹرانسمیشن سیکٹر میں سرمایہ کاری میں اظہار دلچسپی وزیراعظم سے گیٹس فاؤنڈیشن کے وفد کی ملاقات، پولیو کے خاتمے، ڈیجیٹل ادائیگیوں پر گفتگو وزیر خزانہ سے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اے سی سی اے گلوبل کی ملاقات، معاشی اصلاحات پر گفتگو قطر سے 81 ہزار 936 میٹرک ٹن ایل این جی لے کر جہاز پورٹ قاسم پہنچ گیا الجزائر کا متحدہ عرب امارات سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا فیصلہ مشرقی چین میں مال بردار جہاز میں خوفناک آتشزدگی، 20 افراد ہلاک آزاد کشمیر کی ترقیاتی ترجیحات کا جائزہ، اسحاق ڈار کی عملدرآمد تیز کرنے کی ہدایت ایران نے 27 ایئرلائنز پر امریکی پابندیوں کو معاشی دہشت گردی قرار دے دیا سہیل آفریدی، مینا خان سمیت 4 ملزموں کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی آنکھوں کے امراض کی بروقت تشخیص سے بینائی کے نقصان سے بچا جا سکتا ہے: گورنر سندھ لوڈشیڈنگ کیس: لاہور ہائیکورٹ نے 15 ستمبر کو جواب طلب کرلیا پی ٹی آئی کے 27 ستمبر احتجاج اور لانگ مارچ کے خلاف درخواست: اسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بنچ میں اہم سماعت وزیراعظم کی زیرِ صدارت اجلاس میں نئی آٹو پالیسی اور الیکٹرک گاڑیوں کے لیے بڑی مراعات کی منظوری

27 ویں آئینی ترمیم کوئی طوفان نہیں، ابھی مشاورت کا آغاز ہوا ہے: رانا ثنااللہ

Web Desk

4 November 2025

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی و انتظامی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کو بلاوجہ خوفناک بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، حالانکہ ابھی صرف مشاورت کا آغاز ہوا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اتفاقِ رائے کے بغیر کوئی ترمیم نہیں کی جائے گی۔ رانا ثنا نے کہا کہ بلاول بھٹو کی جانب سے جن نکات کا ذکر کیا گیا، ان میں سے کوئی بھی ایسی چیز نہیں جو زیرِ بحث نہ ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ کو 18ویں آئینی ترمیم سے کوئی مسئلہ نہیں، تاہم صوبوں اور وفاق کے درمیان وسائل کے توازن کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی اخراجات اور قرضوں کی ادائیگی کے بعد وفاق کے پاس کچھ نہیں بچتا، اس لیے وسائل کی منصفانہ تقسیم ناگزیر ہے۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ اتحادی جماعتوں سے بات چیت کے بعد تمام نکات عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔ ان کے مطابق آئین میں ترامیم کا مقصد ہمیشہ بہتری اور نظام کی مضبوطی ہوتا ہے، نہ کہ کسی کے اختیارات کو کم یا زیادہ کرنا۔