LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
لوڈشیڈنگ کیس: لاہور ہائیکورٹ نے 15 ستمبر کو جواب طلب کرلیا پی ٹی آئی کے 27 ستمبر احتجاج اور لانگ مارچ کے خلاف درخواست: اسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بنچ میں اہم سماعت وزیراعظم کی زیرِ صدارت اجلاس میں نئی آٹو پالیسی اور الیکٹرک گاڑیوں کے لیے بڑی مراعات کی منظوری حماد اظہر کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں کے وارنٹس پر عملدرآمد تیز کرنے کا فیصلہ میر رضا کیس: وزیر داخلہ سندھ ضیاء لنجھار جوڈیشل کمیشن میں پیش سیف گیمز کے کامیاب انعقاد کیلئے اسپورٹس انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن کا بڑا فیصلہ پاکستان میں ڈیجیٹل لین دین کرنے والوں کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر حل طلب مسئلہ، بھارت حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا: دفتر خارجہ حوثی باغیوں کا سعودیہ کے 3 شہروں پر حملہ، یمنی وزیر دفاع کو یرغمال بنا لیا اسلام آباد ہائیکورٹ: بانی پی ٹی آئی کے ایکس اکاؤنٹ پر پابندی اور توہینِ عدالت کیس کی سماعت، پارٹی سے موقف طلب پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران منفی رجحان برقرار امریکی اڈے پر ایرانی حملے میں 9 جنگی طیارے نشانہ بن گئے بھاری ٹیکس و مارجن وصولی: پانچ روز میں پٹرول 21.88 روپے فی لیٹر مہنگا مڈ ٹرم انتخابات میں کامیابی پر تمام امریکی شہریوں کو 5,000 ڈالر دینے کا اعلان ایران جنگ جنوری 2029ء تک جاری رہنے کا خدشہ ہے: امریکی میڈیا

ایران حوثیوں کے ذریعے بحیرہ احمر پر کنٹرول چاہتا ہے: یمنی سفیر

Web Desk

10 September 2026

دوحہ: قطر میں متعین یمنی سفیر راجح بادی نے الزام عائد کیا ہے کہ یمن میں شدید لڑائی کے دوبارہ آغاز کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے، جو حوثی باغیوں کو بطور آلہ کار استعمال کرتے ہوئے بحیرۂ احمر کی اہم ترین بحری گزرگاہوں پر اپنی گرفت مضبوط کرنا چاہتا ہے۔
یمنی سفیر نے خطے میں تصادم کی موجودہ لہر کا ذمہ دار حوثیوں کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ گروہ بحیرۂ احمر سے متصل ساحلی اور تزویراتی (اسٹریٹجک) علاقوں پر قبضے کے لیے یہ کارروائیاں کر رہا ہے۔
ایران حوثی تعلقات: سفیر کے مطابق تہران اور حوثی باغیوں کے درمیان گٹھ جوڑ اب کوئی راز نہیں رہا۔ ایران حوثیوں کو اپنے اثر و رسوخ اور جغرافیائی دباؤ کو برقرار رکھنے کے لیے ایک اہم ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
سمندری گزرگاہوں کی اہمیت: راجح بادی نے خبردار کیا کہ اگر ایران کا آبنائے ہرمز اور باب المندب کی اہم عالمی سمندری گزرگاہوں پر کنٹرول کا دعویٰ درست مان لیا جائے، تو یہ اس کی طاقت اور جغرافیائی دباؤ کو کسی بھی ایٹمی ہتھیار کے ذخیرے سے زیادہ مؤثر اور خطرناک بناتا ہے۔
علاقائی سکیورٹی کو خطرہ: یمنی سفیر کا کہنا تھا کہ بحیرۂ احمر میں حوثیوں کے حملے اور پیش قدمی نہ صرف یمن بلکہ پورے خطے کی امن و امان اور عالمی بحری تجارت کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے۔