LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا، حکومت نے ریلیف سے قبل قیمتیں آسمان پر پہنچا دیں پمز ایم سی ایچ سے نومولود چوری کی کوشش ناکام، دو خواتین اور لڑکی گرفتار پٹرولیم لیوی کے خاتمے تک احتجاج جاری رہے گا: حافظ نعیم الرحمان انڈونیشین نیوی کے سربراہ کی نیول چیف سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے کا عزم ملائیشین وزیراعظم سے من گھڑت بیانیہ نکلوانے کی بھارتی کوشش ناکام، انٹرویو پھر سرخیوں میں اسحاق ڈار سے لبنانی وزیر داخلہ کی ملاقات ہوئی، تمام شعبوں میں تعاون پر اتفاق پٹرولیم قیمتوں میں ریلیف، حکومت اور جماعت اسلامی میں اہم ملاقات خیبرپختونخوا دو دن سے لاوارث، سہیل آفریدی سیر سپاٹے کر رہے ہیں: عظمیٰ بخاری سینیٹ کمیٹی میں ایم ڈی کیٹ اور میڈیکل داخلہ نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی سفارشات افغان میڈیکل طلبہ کی پاکستان میں تعلیم جاری رکھنے کی درخواست پر فیصلہ جاری پٹرولیم مصنوعات پر لیوی ختم کی جائے، حکومت ہوش کے ناخن لے: شرجیل میمن امریکا خلا میں فوجی طاقت بڑھانے کا سلسلہ بند کرے، چین کا مطالبہ باب المندب کی بندش پوری دنیا کیلئے تباہ کن ہوگی: قطر کا اظہارِ تشویش ازبکستان کا 10 رکنی میڈیا وفد 7 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گیا حکومت ریلیف کا ڈرامہ بند اور پٹرولیم لیوی کا بھتہ ختم کرے: حافظ نعیم

محمد بن سلمان کی سینٹکام سربراہ سے ملاقات، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال

Web Desk

14 September 2026

سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان سے امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے نائب سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے جدہ میں ملاقات کی۔ سعودی سرکاری میڈیا کے مطابق، اس اہم ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے تازہ ترین علاقائی سیکیورٹی پیش رفت، خطے کی صورتحال اور دوطرفہ عسکری تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اگرچہ دونوں ممالک کے حکام کی جانب سے مذاکرات کی مکمل اور تفصیلی معلومات جاری نہیں کی گئیں، تاہم یہ ملاقات خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یمن میں حوثی عسکریت پسندوں کی کارروائیوں اور سعودی عرب کے سرحد پار سیکیورٹی خدشات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، حوثی جنگجوؤں نے یمن کے بحیرہ احمر سے متصل ساحلی علاقوں میں تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے اہم ساحلی شہر موخا سمیت میون (پیریم)، گریٹر اور لیزر حنیش جیسے سٹریٹجک جزائر پر اپنا کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جس سے انہیں بحیرہ احمر کی تجارتی گزرگاہوں پر مزید اثر و رسوخ حاصل ہو گیا ہے۔

واضح رہے کہ باب المندب کی آبنائے عالمی تجارت اور بحری جہاز رانی کے لیے انتہائی نازک اور سٹریٹجک سمندری راستہ سمجھی جاتی ہے، جو بحیرہ احمر کو خلیجِ عدن سے ملاتی ہے۔ اس راستے سے روزانہ درجنوں تجارتی و مال بردار جہاز بحر ہند سے بحیرہ احمر اور پھر نہر سویز کی طرف گامزن ہوتے ہیں۔ عالمی اور علاقائی سطح پر اس سمندری گزرگاہ کی سیکیورٹی اور آزادی کو برقرار رکھنا امریکہ اور سعودی عرب دونوں کے لیے ایک اہم ترجیح ہے۔