LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
عراق کا ایران کے ساتھ 3 سرحدی گزرگاہوں پر آمدورفت بحال کرنے کا اعلان سعودی آئل پائپ لائن پر ڈرون حملہ، عراقی فورسز نے لانچنگ سائٹ کا سراغ لگا لیا وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کا ٹیلیفونک رابطہ، علاقائی امن و استحکام پر تبادلہ خیال 28 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کے حقوق پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے: سلمان اکرم راجہ ہرنائی میں پاک فوج کا بروقت ریسکیو آپریشن، 5 کان کن زندہ نکال لیے پٹرولیم لیوی کیخلاف جدوجہد سے حکومت ریلیف دینے پر مجبور ہوئی: حافظ نعیم وزیراعظم کا عوام کیلئے خصوصی پٹرول ریلیف سکیم کا اعلان پٹرولیم مصنوعات پر ریلیف: حکومت اور جماعت اسلامی کے مذاکرات منگل تک موخر صوبوں کی تقسیم سے انتظامی یونٹس یا بلدیاتی انتخابات کا معاملہ نکل سکتا ہے: رانا ثناءاللہ سعودیہ سے جنگ نہیں، امریکا میں ہمت ہے تو ایرانی فوج کا سامنا کرے: مسعود پزشکیان ملائیشین وزیراعظم کا پاکستان پر دہشت گردی کا الزام ماننے سے صاف انکار پٹرولیم لیوی کا پٹرول کی قیمت سے کوئی تعلق نہیں: حافظ نعیم الرحمٰن سندھ طاس معاہدے پر عالمی عدالت کا فیصلہ پاکستان کی کامیابی ہے: چینی اخبار حادثات اور ہنگامی حالات میں بروقت ابتدائی طبی امداد ناگزیر ہے، مریم نواز شریف افغانستان میں داعش خراسان اب بھی سنگین سیکیورٹی خطرہ ہے: روس کا انتباہ

سردار عطاء اللہ مینگل کی برسی بھی بلوچستان میں منانے کی اجازت نہیںاختر مینگل

Web Desk

13 September 2026

کراچی: بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس قائد نے اپنی تمام زندگی بلوچ عوام کے حقوق کے لیے وقف کر دی، آج ستم ظریفی یہ ہے کہ ہم ان کی برسی بھی بلوچستان کی سرزمیں پر منانے سے محروم ہیں۔

کراچی پریس کلب میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سردار اختر مینگل نے کہا کہ ”آج بولنے کے لیے کچھ باقی نہیں بچا لیکن سنانے کے لیے دکھوں اور داستانوں کا ایک طویل دفتر موجود ہے“۔ انہوں نے تاریخی تلخیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک بلوچستان میں جتنے لوگ شہید کیے گئے ہیں، اگر ان کے چہروں اور ناموں کے پوسٹرز بنائے جائیں تو کراچی کی طویل شاہراہِ فیصل بھی ان کے لیے کم پڑ جائے گی۔

اختر مینگل نے صوبے میں سیکیورٹی صورتحال اور حالیہ واقعات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں بدترین حادثات اور 16 افراد کی شہادت جیسے المناک واقعات کے باوجود حکمرانوں اور سیکیورٹی اداروں میں سے کسی نے پلٹ کر ان کا حال تک نہیں پوچھا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ریاست بتائے کہ دہشت گرد تنظیموں کے پیچھے اصل میں کون سے عناصر کارفرما ہیں؟

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں کسی قسم کا آئین یا قانون نافذ نہیں بلکہ وہاں صرف اور صرف طاقت اور جبر کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے، باقی ملک میں سب خیریت دکھائی جاتی ہے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر بی این پی کے سربراہ نے ریاستی رویے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب بلوچ عوام کو آئینی اور قانونی راستوں سے انصاف نہیں مل رہا، تو اب ملک کے دانشمند بتائیں کہ بلوچستان کے لوگ حقوق کی حاصلات کے لیے کون سا راستہ اختیار کریں؟