LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نئے صوبوں کا معاملہ قومی مشاورت سے حل ہونا چاہیے: چودھری شجاعت حسین افغانستان پاکستان کیخلاف دہشت گردی کا اہم مرکز بن چکا ہے: واشنگٹن پوسٹ یمن میں حکومتی فورسز اور حوثی جنگجوؤں میں جھڑپوں سے 76 ہزار افراد بے گھر روسی حملوں میں شدت، رواں سال انتہائی مشکل موسم سرما کا سامنا ہو سکتا ہے: یوکرینی حکام ورلڈ الٹیمیٹ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ، ارشد ندیم میڈل کی دوڑ سے باہر 20 ستمبر کا لانگ مارچ ملکی سیاست کا رخ بدل دے گا: حافظ نعیم الرحمٰن ایران کے ساتھ جنگ مڈٹرم انتخابات کے بعد ختم ہوجائے گی: ٹرمپ کا دعویٰ عراق کا ایران کے ساتھ 3 سرحدی گزرگاہوں پر آمدورفت بحال کرنے کا اعلان سعودی آئل پائپ لائن پر ڈرون حملہ، عراقی فورسز نے لانچنگ سائٹ کا سراغ لگا لیا وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کا ٹیلیفونک رابطہ، علاقائی امن و استحکام پر تبادلہ خیال 28 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کے حقوق پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے: سلمان اکرم راجہ ہرنائی میں پاک فوج کا بروقت ریسکیو آپریشن، 5 کان کن زندہ نکال لیے پٹرولیم لیوی کیخلاف جدوجہد سے حکومت ریلیف دینے پر مجبور ہوئی: حافظ نعیم وزیراعظم کا عوام کیلئے خصوصی پٹرول ریلیف سکیم کا اعلان پٹرولیم مصنوعات پر ریلیف: حکومت اور جماعت اسلامی کے مذاکرات منگل تک موخر

91 سالہ شخص نے 2193 میل کا سفر مکمل کرکے دوبارہ ریکارڈ بنالیا

Web Desk

12 September 2026

واشنگٹن: 91 سالہ ڈیل ’گرے بیئرڈ‘ سینڈرز نے ایک بار پھر دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈالتے ہوئے امریکہ کی مشہور اور کٹھن ‘اپالاچین ٹریل’ (Appalachian Trail) کامیابی سے مکمل کر لی ہے، اور اس ایڈونچر کو سر کرنے والے دنیا کے سب سے معمر ترین شخص کا ورلڈ ریکارڈ دوبارہ اپنے نام کر لیا ہے۔

جارجیا کے اسپرنگر ماؤنٹین سے ریاستِ مین کے ماؤنٹ کٹاڈن تک پھیلا یہ تقریباً 2 ہزار 193 میل (3,529 کلومیٹر) طویل اور دشوار گزار راستہ سینڈرز نے مختلف وقفوں کے ساتھ مکمل کیا۔ اس طویل اور جان لیوا سفر کے دوران انہیں کئی بار سخت آزمائشوں سے گزرنا پڑا؛ وہ مجموعی طور پر 71 مرتبہ گرے، جن میں سے 6 حادثات خاصے شدید نوعیت کے تھے۔ ایک بار انہیں ایمرجنسی میں ہسپتال منتقل کرنا پڑا، جبکہ اپنی آخری منزل سے محض 200 گز کے فاصلے پر بھی وہ ایک بار پھر گر کر زخمی ہوئے۔

ڈیل سینڈرز نے سب سے پہلے 2017 میں 82 سال کی عمر میں یہ عالمی ریکارڈ اپنے نام کیا تھا، تاہم کچھ عرصے بعد ان کے 83 سالہ دوست ایم جے ایبرہارٹ نے یہ اعزاز ان سے چھین لیا۔ اس پر سینڈرز نے ہار ماننے کے بجائے چند ماہ کے اندر ہی اپنا ریکارڈ واپس حاصل کرنے کا عزم کر لیا تھا۔

اس طویل اور آزمائش سے بھرپور مہم جوئی کے دوران ان کی صحت نے بھی کئی بار کڑا امتحان لیا۔ ایک مرتبہ پہاڑ سے نیچے اترتے ہوئے پتھروں کی دراڑوں میں گرنے کی وجہ سے ان کی ٹانگوں اور ہاتھوں پر شدید چوٹیں آئیں۔ بعد ازاں ایک مرحلے پر جب ان کا بازو بالکل سن ہو گیا تو انہیں ہسپتال داخل کرایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے فالج کا خدشہ ظاہر کیا، تاہم طبی معائنے کے بعد معلوم ہوا کہ یہ مسئلہ صرف اعصابی دباؤ (Nerve Compression) کے باعث پیش آیا تھا۔

91 سالہ سینڈرز کے مطابق اب اس خطرناک مہم کا مقصد صرف کوئی گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کرنا نہیں رہا، بلکہ وہ دنیا بھر کے لوگوں کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ بڑھتی ہوئی عمر کسی انسان کے خوابوں اور حوصلوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ ان کے اس پرعزم سفر کو سوشل میڈیا پر بھی ہزاروں مداح باقاعدگی سے فالو کرتے رہے۔

ریاستِ مین کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ کٹاڈن پر پہنچ کر سینڈرز نے جذباتی انداز میں کچھ دیر رک کر دعا کی اور اپنی اس عظیم تاریخی کامیابی پر خدا کا شکر ادا کیا، جبکہ اپنی سپیشل سپورٹ ٹیم اور ان تمام مداحوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس کٹھن سفر کے دوران ان کی ہمت بندھائی۔