LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ورلڈ الٹیمیٹ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ، ارشد ندیم میڈل کی دوڑ سے باہر 20 ستمبر کا لانگ مارچ ملکی سیاست کا رخ بدل دے گا: حافظ نعیم الرحمٰن ایران کے ساتھ جنگ مڈٹرم انتخابات کے بعد ختم ہوجائے گی: ٹرمپ کا دعویٰ عراق کا ایران کے ساتھ 3 سرحدی گزرگاہوں پر آمدورفت بحال کرنے کا اعلان سعودی آئل پائپ لائن پر ڈرون حملہ، عراقی فورسز نے لانچنگ سائٹ کا سراغ لگا لیا وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کا ٹیلیفونک رابطہ، علاقائی امن و استحکام پر تبادلہ خیال 28 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کے حقوق پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے: سلمان اکرم راجہ ہرنائی میں پاک فوج کا بروقت ریسکیو آپریشن، 5 کان کن زندہ نکال لیے پٹرولیم لیوی کیخلاف جدوجہد سے حکومت ریلیف دینے پر مجبور ہوئی: حافظ نعیم وزیراعظم کا عوام کیلئے خصوصی پٹرول ریلیف سکیم کا اعلان پٹرولیم مصنوعات پر ریلیف: حکومت اور جماعت اسلامی کے مذاکرات منگل تک موخر صوبوں کی تقسیم سے انتظامی یونٹس یا بلدیاتی انتخابات کا معاملہ نکل سکتا ہے: رانا ثناءاللہ سعودیہ سے جنگ نہیں، امریکا میں ہمت ہے تو ایرانی فوج کا سامنا کرے: مسعود پزشکیان ملائیشین وزیراعظم کا پاکستان پر دہشت گردی کا الزام ماننے سے صاف انکار پٹرولیم لیوی کا پٹرول کی قیمت سے کوئی تعلق نہیں: حافظ نعیم الرحمٰن

مفتاح اسماعیل کا نئے صوبوں کے بجائے بااختیار انتظامی یونٹس بنانے کا مطالبہ

Web Desk

12 September 2026

کراچی: سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے ملک میں نئے صوبوں کے قیام کے بجائے بااختیار انتظامی یونٹس قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایک مقامی ہوٹل میں ’گریجویٹ فورم پاکستان‘ کے زیر اہتمام منعقدہ قومی مذاکرے سے خطاب کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے ملک کے موجودہ انتظامی ڈھانچے اور بلدیاتی نظام پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اس وقت نئے صوبوں کے حوالے سے بحث جاری ہے اور اس معاملے کو حل کرنے کے لیے پانچ ممکنہ آپشنز موجود ہیں۔ پہلا آپشن یہی ہے کہ موجودہ نقائص سے بھرپور نظام کو من وعن چلنے دیا جائے۔

دوسرے آپشن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ایک بااختیار مقامی حکومتوں کا نظام نافذ کیا جائے، لیکن سیاسی حقائق اس کے منافی ہیں۔ انہوں نے تمام بڑی جماعتوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کے ہوتے ہوئے بااختیار مقامی حکومتیں بننا ناممکن ہے، پی ٹی آئی بڑی باتیں تو کرتی ہے مگر اس نے خیبر پختونخوا میں بااختیار بلدیاتی نظام قائم نہیں کیا، جبکہ مسلم لیگ (ن) کی صورتحال بھی سب کے سامنے ہے جس نے قراردادیں تو پاس کیں مگر عملی طور پر کچھ نہیں کیا۔

سابق وزیر خزانہ نے تیسرے اور سب سے جامع آپشن پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں ایڈمنسٹریٹو (انتظامی) یونٹس بنائے جائیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ لوکل گورنمنٹ کے نظام کو صوبوں کے تصرف سے نکال لیا جائے کیونکہ صوبائی حکومتیں مقامی حکومتوں کے قیام اور کارکردگی میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں۔

مفتاح اسماعیل نے شکوہ کیا کہ ملک میں اس وقت صرف 800 افراد کی اجارہ داری ہے جو پورے نظام کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مقامی لوگوں کو بااختیار بنایا جائے تاکہ کراچی، لاڑکانہ، لاہور، پشاور اور کوئٹہ کے لوگ اپنے اپنے شہروں کا انتظام خود چلا سکیں۔

سندھ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کراچی کے عوام کو ان کا جائز حق دینے کے لیے تیار نہیں ہے؛ شہر کو نہ پانی مل رہا ہے، نہ روزگار اور نہ ہی بنیادی انفراسٹرکچر میسر ہے۔ انہوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان تمام مظالم کے باوجود یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ نئے انتظامی یونٹس پر بات بھی نہ کی جائے، جو کسی صورت ممکن نہیں۔