LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا محاصرہ اور جارحیت ختم کرے تو آبنائے ہرمز کھول دیں گے: مسعود پزشکیان ناروے کے بادشاہ کی آخری رسومات کے دو دن بعد شہزادی بھی چل بسیں 9/11 انہی لوگوں نے کیا جن کو امریکا نے ہتھیار فراہم کیے تھے: اسماعیل بقائی 14 ستمبر سے نادرا ویکسینیشن سرٹیفکیٹ کے بغیر بین الاقوامی سفر کی اجازت نہیں ہوگی پیٹرولیم مہنگائی پر ٹرانسپورٹرز کا کرائے 5 فیصد مزید بڑھانے کا اعلان سندھ میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ پر شرجیل میمن برس پڑے سندھ میں کوئی بھی صوبے کی تقسیم کے حق میں نہیں، عوام نے اپنا فیصلہ سنا دیا: مراد علی شاہ نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی نے نئے صوبے اور انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر قرار دیدیا سعودی عرب پر ڈرون حملے ، عراقی وزیراعظم نے اعلیٰ فوجی کمانڈر کو برطرف کر دیا انصاراللہ کی اہم ساحلی علاقوں کا کنٹرول سنبھالنے پر باب المندب میں پٹرولنگ انڈونیشیا کا جزیرہ جاوا 6.2 شدت کے زلزلے سے لرز اٹھا سعودی وزیر خارجہ کا ترک و قطری وزرائے خارجہ سے رابطہ، علاقائی صورت حال پر گفتگو جی سی سی کی سعودی ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن پر ڈرون حملے کی شدید مذمت یو اے ای میں تعینات پاکستانی سفیر شفقت علی خان آرمینیا کے پہلے سفیر مقرر قابض افغان طالبان رجیم کے خلاف مسلح مزاحمت تیز

ایران، عراق اور خلیجی ممالک کا آبنائے ہرمز پر بات چیت کرنے کا فیصلہ

Web Desk

12 September 2026

مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتِ حال کے درمیان ایک اہم مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایران، عراق اور خلیجی تعاون کونسل (GCC) کے ممالک نے آبنائے ہرمز کی حفاظت اور علاقائی صورتِ حال پر باضابطہ بات چیت شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق ایران اور خلیجی ممالک کا اعلیٰ سطح کا اہم اجلاس رواں ہفتے پیر کے روز سلطنتِ عمان میں منعقد ہوگا، جس کا بنیادی مقصد مشترکہ علاقائی سلامتی اور سمندری راستوں کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ خطے اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی، عدم استحکام اور عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا اصل ذمہ دار امریکہ ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ ایران نے اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کیے ہیں، تاہم وہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی حل کی اہمیت پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پائیدار حل کے لیے ضروری ہے کہ دوسرا فریق بھی سنجیدگی کا مظاہرہ کرے کیونکہ یکطرفہ طور پر مذاکرات میں پیش رفت ممکن نہیں ہوتی۔