LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
موخا ایئرپورٹ پر سعودی عرب کے 2 فضائی حملے، حوثی باب المندب کے قریب پہنچ گئے پوزیشن کا اہم اجلاس: 27 ستمبر احتجاج کی تیاریوں کی ہدایت، ملک گیر آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ محسن نقوی سے رابطہ رہتا ہے، تفصیلات نہیں بتائیں گے، بیرسٹر گوہر چیف الیکشن کمشنر کی تقرری، حکومت اور حزب اختلاف میں مشاورت کا آغاز 27 پی ٹی آئی کی پولیس چھاپوں اور گرفتاریوں کے خلاف لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ میں درخواست دائر لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو بے دخل کرنے سے روک دیا ٹرمپ نے حوثیوں کے خلاف کارروائی کی سعودی درخواست مسترد کر دی: امریکی میڈیا ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے فیصلے پر کوئی پچھتاوا نہیں: ٹرمپ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں شدید مندی، 2500 سے زائد پوائنٹس کی کمی امریکہ: میڈیکیڈ میں 6 کروڑ 40 لاکھ ڈالر فراڈ پر ذکیہ خان کو 76 ماہ قید اور بھاری جرمانے کی سزا سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت: اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار کا سلامتی کونسل سے خطاب نیویارک میں نائن الیون کی 25ویں برسی: میئر زہران ممدانی کی شرکت پر تنازع اور شدید احتجاج ٹرمپ انتظامیہ پیر کو بڑے بینک کے خلاف پابندیاں عائد کرے گی، امریکی وزیر خزانہ واشنگٹن کے تمام اقدامات تیل کی قیمتوں میں اضافہ روکنے میں ناکام رہے ہیں، باقر قالیباف آئی اے ای اے کی ایران کے خلاف قرارداد غیر قانونی اور سیاسی ہے، محسن رضائی

‘کوئی رہ تو نہیں گیا’، شوبز اسٹار بھی 80 کی دہائی کے ٹرینڈ کا حصہ بن گئے

Web Desk

11 September 2026

سوشل میڈیا پر رواں ہفتے ‘1980 کی دہائی’ (1980s Retro Look) کا اے آئی ٹرینڈ غیر معمولی طور پر مقبول ہو گیا ہے، جس میں عام صارفین کے ساتھ ساتھ پاکستانی اور بالی ووڈ شوبز شخصیات کی بڑی تعداد نے چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT) جیسے اے آئی ٹولز کی مدد سے خود کو 80 کی دہائی کے کلاسک روپ میں ڈھال کر تصاویر شیئر کیں۔ یہ ٹرینڈ اس قدر تیزی سے پھیلا کہ سوشل میڈیا پر مزاحیہ میمز اور پوسٹس کا تانتا بندھ گیا کہ “کیا اب بھی کوئی اس ٹرینڈ سے رہ تو نہیں گیا؟”

پاکستانی شوبز انڈسٹری میں اس ٹرینڈ کی شروعات اداکارہ ماہرہ خان کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم ’میشن‘ نے کی، جس نے ماہرہ خان، ماورا حسین، عائزہ خان، صنم سعید، انمول بلوچ، عینا آصف اور زارا نور عباس کی اے آئی سے تیار کردہ 80ء کی دہائی کی تصاویر انسٹاگرام پر شائع کیں۔ اس کے علاوہ صبور علی، یاسر حسین، اقرا عزیز، علی انصاری، شاہروز سبزواری، مریم نفیس، انوشے اشرف، زلے سرحدی، نور حسن، نمرہ خان اور ارمینہ خان سمیت متعدد معروف اداکاروں نے بھی اپنی اور اپنے شریکِ حیات کی اے آئی فوٹوز شیئر کیں۔ دوسری جانب، معروف میوزک بینڈ ’اسٹرنگز‘ کے بلال مقصود نے اے آئی ٹول کا استعمال کرنے کے بجائے اپنے بینڈ کی 80ء کی دہائی کی اصلی تصویر شیئر کرتے ہوئے طنزاً لکھا کہ “اس دور کے اصلی لوگوں کے پاس تصاویر کے باقاعدہ البمز موجود ہیں”۔

اگرچہ اس ٹرینڈ نے سوشل میڈیا پر تفریح فراہم کی، لیکن اس کے ساتھ ہی پرائیویسی، ڈیٹا سیفٹی اور رضامندی سے متعلق ایک نئی عالمی بحث چھیڑ دی ہے۔ ڈیجیٹل رائٹس ایکٹوسٹ اسامہ خلجی نے اس رجحان پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ صارف خود اپنا تفصیلی چہرہ اے آئی الگورتھمز کو فراہم کر کے مستقبل میں اپنے ہی ‘ڈیپ فیکس’ (Deepfakes) اور شناختی چوری کا خطرہ بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے ٹیک کمپنیوں پر اندھا دھند بھروسہ کرنے سے گریز اور اپنے بائیو میٹرک چہرے کا ڈیٹا مشینوں کو دینے سے روکنے کی تاکید کی