LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
برآمدات میں اضافے کیلئے نجی شعبے کو بھی آگے آنا ہوگا: ہارون اختر خان معروف کوہ پیما سید علی شاہ کی میت 31 دن بعد فلک سیر کی چوٹی سے تلاش کرلی گئی آر ایل این جی کی عدم دستیابی سے بجلی کی پیداوار متاثر ہوئی: پاور ڈویژن پاکستان کو دنیا کی 24 ویں بڑی معیشت اور جی 20 کا حصہ بنانا ہدف ہے: اسحاق ڈار پمز میں 14 بچوں کی ہلاکت ہمارے نظام پر بڑا سوالیہ نشان ہے: مصدق ملک کسی نے ہمیں دھرنے سے اٹھانے کی کوشش کی تو وہ اپنا شوق پورا کرلے: حافظ نعیم علی پرویز ملک کی او آئی سی سی آئی اور پی ایس او قیادت سے الگ الگ ملاقاتیں عوام کو جدید ڈیجیٹل مالیاتی نظام سے منسلک کرنا ترجیح ہے: شزا فاطمہ محسن نقوی کا جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا دورہ، امیگریشن سسٹم ڈاؤن ہونے پر فوری ہدایت پاکستان چین دوستی کو ڈیٹا، ٹیکنالوجی کے نئے دور میں داخل کرنا چاہتے ہیں: مریم نواز سہیل آفریدی کی آیت نور کے گھر آمد، ملزمان کو کڑی سزا دینے کی یقین دہانی نیپال و تبت میں سیلاب سے ہلاکتیں 626 ہو گئیں، 2000 سے زیادہ افراد تاحال لاپتہ ڈی آئی جی ساؤتھ کا ڈیفنس میں خواتین کے جھگڑے کی وائرل ویڈیو پر انکوائری کا فیصلہ امریکی پابندیوں کے تسلسل سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے: ایرانی صدر فیلڈ مارشل عاصم منیر کا پاکستان آرڈیننس فیکٹری واہ کا دورہ، پیداواری صلاحیتوں کا جائزہ لیا

پمز میں 14 بچوں کی ہلاکت ہمارے نظام پر بڑا سوالیہ نشان ہے: مصدق ملک

Web Desk

29 August 2026

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ پمز (PIMS) ہسپتال میں 14 بچوں کے جاں بحق ہونے کا انتہائی افسوسناک واقعہ ہمارے پورے قومی صحت کے نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے، اور جب تک امیر اور غریب کے لیے صحت کی سہولیات یکساں نہیں کی جاتیں، ایسے دلخراش واقعات کا سدباب ممکن نہیں۔

ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ اگر سیاست دانوں اور اعلٰی سرکاری افسران کے بچوں کا علاج بھی پمز جیسے عمومی سرکاری ہسپتالوں میں قانوناً لازم قرار دے دیا جائے تو ہمارا صحت کا نظام راتوں رات بہتر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ محض سماجی انصاف کی باتیں کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے؛ اگر ہم غریب کے بچے کو اس کے محلے میں بنیادی طبی سہولیات اور پینے کا صاف پانی فراہم نہیں کر سکتے تو ہماری تمام معاشی ترقی بے معنی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعظم کا بھی یہی وژن ہے کہ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بنیادی انقلاب لایا جائے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ جدید دور میں نینو ٹیکنالوجی، بائیوٹیکنالوجی، طبی علوم اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایک دوسرے کے ساتھ جڑ چکے ہیں۔ اس لیے پاکستان کی حقیقی اور پائیدار ترقی کے لیے تحقیق، جدید ٹیکنالوجی، تعلیمی اصلاحات اور صحت کے شعبے کو مربوط حکمتِ عملی کے تحت ایک ساتھ آگے بڑھانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو صاف پانی کی فراہمی اور یکساں طبی سہولیات دینا ہی حقیقی انسانی ترقی کی ضامن ہے۔