LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا، ایران کشیدگی کم کرنے کیلئے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں: دفتر خارجہ گیس سبسڈی نظام اور قیمتوں کے سلیب پر نظرثانی کی ضرورت ہے، علی پرویز ملک ایران کا ایک بار پھر حملوں سے متاثرہ جوہری تنصیبات کے معائنے سے انکار ملکی دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی تازہ ترین صورتحال: واپڈا نے اعداد و شمار جاری کر دیے وزیرِ اعظم شہباز شریف سے سعودی سفیر نواف بن سعید کی الوداعی ملاقات مریم نواز کا سنکیانگ میں معروف چینی ڈیری کمپنی کے ہیڈکوارٹر کا دورہ ایران نے نئی امریکی پابندیوں کو ریاستی اور معاشی دہشت گردی قرار دے دیا ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای زندہ مگر شدید زخمی ہیں: ٹرمپ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں فورسز کی کارروائیاں، 11 دہشت گرد ہلاک سانحہ پمز ہسپتال: جاں بحق ہونے والے 14 بچے سپرد خاک، ہر آنکھ اشکبار پاکستان نے فلسطین میں پائیدار امن کیلئے اسرائیلی قبضے کا خاتمہ ناگزیر قرار دیدیا برطانوی شہزادہ ہیری اور میگھن 6 سالہ بعد برطانیہ واپس پہنچ گئے بچوں کو سوشل میڈیا کا عادی بنانے کا الزام، میٹا 16.7 ارب ڈالر جرمانہ دینے پر رضا مند ٹرمپ انتظامیہ کا ایران کیخلاف فوری نئے حملوں کا ارادہ نہیں: امریکی میڈیا امریکا کا چین سے منسلک بڑا سائبر حملہ ناکام بنانے کا دعویٰ

ایران کا ایک بار پھر حملوں سے متاثرہ جوہری تنصیبات کے معائنے سے انکار

Web Desk

27 August 2026

تہران: ایرانی ایٹمی توانائی آرگنائزیشن (AEOI) کے سربراہ محمد اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں سے متاثر ہونے والی ایرانی جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک ان کے لیے نیا اور مخصوص پروٹوکول تیار نہیں کر لیا جاتا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد اسلامی نے واضح کیا کہ آئی اے ای اے (IAEA) غیر متاثرہ اور محفوظ مقامات پر اپنے معمول کے حفاظتی معائنے جاری رکھ سکتی ہے، لیکن حملوں کا نشانہ بننے والی حساس تنصیبات کے معاملے پر ایران اپنی پارلیمنٹ کے منظور کردہ قانون اور سلامتی کے خدشات پر سختی سے عمل پیرا ہے۔ انہوں نے عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آئی اے ای اے نے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کی مذمت تک نہیں کی، جس سے اس کی شفافیت، غیر جانبداری اور صلاحیت پر سنگین سوالات اٹھے ہیں۔ محمد اسلامی کا مزید کہنا تھا کہ عالمی ایجنسی کی جانب سے متاثرہ سائٹس تک رسائی کی کوششیں دراصل امریکا اور اسرائیل کی جانب سے حملوں کے نتائج اور نقصان کا تخمینہ لگانے کے لیے ڈالے جانے والے سیاسی دباؤ کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئی اے ای اے ایسی سیکیورٹی صورتحال میں معائنے کے طریقہ کار پر اپنا موقف اور پروٹوکول پہلے واضح کرے۔