LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
روس کے یوکرین پر جوابی حملے زیادہ تکلیف دہ اور تباہ کن ہیں، صدر پوتن تجارتی مذاکرات ناکام، کینیڈا کا بھی امریکا پر 50 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان عمران خان کی ہسپتال منتقلی کا حکم، اسلام آباد انتظامیہ نے نظرثانی اپیل کی جلد سماعت کی درخواست دائر کر دی جنگ کے دوران ایران کی دفاعی پیداوار میں دوگنا اضافہ ہوا، ایرانی وزارت دفاع ایرانی بسیج کمانڈر حسین طائب کا امریکا کی ایران مخالف پالیسی میں تبدیلی کا دعویٰ دمشق کے جنوب میں اسرائیلی ڈرون حملہ، شامی حکومت کی شدید مذمت یوکرین کے ڈرون حملے، روس کے زیر انتظام علاقوں میں 10 افراد ہلاک وزیراعظم کی ہدایت پر پاکستان ریلویز کا مزید دو ٹرینیں بحال کرنے کا اعلان خطے میں امن کیلئے مقامی اور آزاد علاقائی سکیورٹی نظام ناگزیر ہے: ایرانی سپیکر پوتن کا آئندہ پارلیمانی انتخابات پر اعتماد، ملک کے استحکام اور سیاسی نظام کی پختگی کا اظہار مغرب یوکرینیوں کی لاشیں استعمال کرکے روس کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے: سرگئی لاوروف پیپلز پارٹی کو انتخابات میں لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں دی گئی: وزیراعظم آزاد کشمیر کابینہ کمیٹی اجلاس: ڈسکوز فیسکو، گیپکو اور آئیسکو کی تنظیم نو کے منصوبے کی منظوری بھارتی آبی دہشت گردی، دریائے چناب کا پانی روک لیا گیا بانی پی ٹی آئی کی صحت پر سیاست نہیں کریں گے: عابد شیر علی

امریکی عدالت کا بڑا فیصلہ، پاکستان سمیت 75 ممالک کی امیگرنٹ ویزا پابندی ختم کر دی

Web Desk

22 August 2026

نیویارک: امریکی وفاقی عدالت نے پاکستان سمیت 75 ممالک کے شہریوں کے لیے امیگرنٹ ویزا کارروائی روکنے کی ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا۔

نیویارک کی وفاقی عدالت کی جج جینیٹ ورگاس نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ 75 ممالک کے شہریوں کی امیگرنٹ ویزا درخواستوں پر کارروائی روکنے کی پالیسی امریکی امیگریشن قانون سے متصادم ہے اور اسے نافذ کرتے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے اپنے قانونی اختیارات سے تجاوز کیا۔

یہ پالیسی جنوری 2026 میں نافذ کی گئی تھی، جس کے تحت پاکستان سمیت 75 ممالک کے شہریوں کی امیگرنٹ ویزا درخواستوں پر کارروائی معطل کر دی گئی تھی۔ ان ممالک میں پاکستان کے علاوہ افغانستان، بنگلادیش، برازیل، مصر، ایران، عراق، نائجیریا، روس، صومالیہ، تھائی لینڈ اور یمن سمیت دیگر ممالک شامل تھے۔

امریکی محکمۂ خارجہ نے اس پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس کا مقصد ایسے ممالک سے آنے والے تارکینِ وطن کی روک تھام ہے جو مستقبل میں امریکی عوامی وسائل پر بوجھ بن سکتے ہیں۔

تاہم جج جینیٹ ورگاس نے قرار دیا کہ کسی درخواست گزار کے امیگرنٹ ویزا کے معاملے میں صرف اس کے ملکِ پیدائش کی بنیاد پر فیصلہ کرنا قانونی طور پر درست نہیں۔ عدالت نے اس پالیسی کی بنیاد پر پہلے مسترد کیے گئے ویزا فیصلوں کو بھی کالعدم قرار دے دیا ہے۔

یہ فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت امیگریشن پالیسیوں کے لیے ایک بڑا قانونی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی حکومت کو اس فیصلے کے خلاف اپیل کا حق حاصل ہے۔