LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
لطف آباد میں گھر کی دوسری منزل پر پراسرار آتشزدگی، بیوہ ماں اور دو کمسن بیٹیاں جاں بحق، قتل کا شبہ اسرائیلی انتخابات: ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو اتحاد کی برتری، اکثریت سے دور شہباز شریف نے مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا حکومت اور پیپلز پارٹی مذاکرات کا دوسرا دور ختم، بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق سعودی سفیر کی خواجہ آصف سے ملاقات، دفاعی تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ سہیل آفریدی سمیت دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کا حکم نامہ جاری برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا

پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے دوران منفی رجحان

Web Desk

22 August 2026

کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں گزشتہ کاروباری ہفتے کے دوران شدید مندی اور منفی رجحان غالب رہا، جس کے نتیجے میں کے ایس ای-100 انڈیکس میں ہزاروں پوائنٹس کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی۔

ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق، کے ایس ای-100 انڈیکس 2 ہزار 938 پوائنٹس کی نمایاں کمی کے بعد 1 لاکھ 77 ہزار 166 کی سطح پر بند ہوا۔ پورے کاروباری ہفتے کے دوران مارکیٹ 5 ہزار 048 پوائنٹس کی وسیع رینج کے درمیان حرکت کرتی رہی، جہاں ہنڈرڈ انڈیکس کی بلند ترین سطح 1 لاکھ 81 ہزار 158 جبکہ کم ترین سطح 1 لاکھ 76 ہزار 110 پوائنٹس رہی۔

حصص بازار میں ہفتے بھر کے دوران مجموعی طور پر 4.22 ارب شیئرز کا لین دین ہوا، جن کی مالیاتی قدر تقریباً 205 ارب روپے رہی۔ مارکیٹ میں مسلسل مندی کے اثرات کی وجہ سے سرمایہ کاروں کے حصص کی مجموعی مالیت یعنی مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں 247 ارب روپے کا خسارہ دیکھا گیا، جس کے بعد مارکیٹ کیپٹلائزیشن کم ہو کر 19 ہزار 882 ارب روپے کی سطح پر آ گئی۔