LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم کا ملائیشین ہم منصب سے رابطہ،تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق فیلڈ مارشل سے جمہوریہ کانگو کے دفاعی وفد کی ملاقات، سکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق پاکستان سمیت 12 ممالک کی شمال مغربی شام میں اسرائیلی فضائی حملے کی شدید مذمت اپوزیشن کا 27 ستمبر کا احتجاج اور لانگ مارچ برقرار رکھنے کا فیصلہ حکومت کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے جا رہے ہیں: سہیل آفریدی بلوچستان کے مسائل ڈائیلاگ سے حل ہونے چاہئیں، وسائل پر پہلا حق عوام کا ہے: وزیراعظم بلوچستان میں 10 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران 37 دہشتگرد ہلاک اپوزیشن جماعتوں کے نئے الائنس کا معاملہ، اہم مشاورتی اجلاس آج ہوگا پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے اجلاس، اپوزیشن کا احتجاج ملائیشین وزیر داخلہ کا نادرا ہیڈکوارٹرز کا دورہ، ڈیجیٹل نظام کو سراہا امریکی پابندیاں اور معاشی دباؤ مشرقِ وسطیٰ کے مسئلے کا حل نہیں: چین عمران خان کی صحت بالکل ٹھیک ہے، سیاست کا معیار گٹر میں ڈال دیا گیا ہے، خواجہ آصف عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے خلاف دوبارہ نظرثانی درخواست دائر پنجاب میں بلدیاتی انتخابات، الیکشن میٹریل کی خریداری کے اقدامات شروع وزیراعلیٰ مریم نواز نے جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا افتتاح کر دیا

ویڈیو پلیٹ فارمز کے درمیان مسابقت، کنٹینٹ کری ایٹرز کیلئے مالی پیکیج کی پیشکش

Web Desk

21 August 2026

واشنگٹن/کیلیفورنیا: ڈیجیٹل ویڈیو پلیٹ فارمز کے درمیان بڑھتی ہوئی عالمی مسابقت کے پیشِ نظر یوٹیوب نے اپنے ٹاپ کنٹینٹ کری ایٹرز (Creators) کو نیٹ فلکس (Netflix) پر جانے سے روکنے اور اپنے ایکسکلوسو (Exclusive) مواد کو برقرار رکھنے کے لیے کروڑوں ڈالرز کے مالیاتی پیکیج پیش کرنا شروع کر دیے ہیں۔

امریکی معاشی نشریاتی ادارے ‘بلومبرگ’ (Bloomberg) کی جاری کردہ ایک ایکسکلوسو رپورٹ کے مطابق، یوٹیوب اپنے مقبول ترین کری ایٹرز کو مالی ترغیب دینے کے لیے دو بنیادی ماڈلز پر کام کر رہا ہے۔ ان میں مخصوص پریمیم شو اور پروگراموں کی براہِ راست فنڈنگ اور بڑے پیمانے پر طے پانے والی برانڈڈ پارٹنرشپ سے حاصل ہونے والے ریونیو کا زیادہ حصہ شامل ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ حتمی دستخط ابھی باقی ہیں، تاہم یوٹیوب کئی عالمی شہرت یافتہ کری ایٹرز کے ساتھ ممکنہ ڈیلز کے انتہائی قریب پہنچ چکا ہے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یوٹیوب انتظامیہ نے کری ایٹرز پر واضح کیا ہے کہ جو افراد نیٹ فلکس پر لائیو سٹریمنگ کریں گے یا اپنا مواد وہاں منتقل کریں گے، انہیں یوٹیوب کے فرنٹ لائن مارکیٹنگ الگورتھم اور مہمات سے دور کر دیا جائے گا۔ فی الوقت یوٹیوب دنیا بھر میں سب سے بڑا ڈیجیٹل آڈینس رکھتا ہے، جہاں گزشتہ سال ادارے کی مجموعی آمدنی 60 ارب ڈالرز سے تجاوز کر گئی تھی—جو اسی عرصے کے دوران نیٹ فلکس کی کل آمدنی سے کہیں زیادہ تھی—جبکہ گزشتہ چار سالوں کے دوران یوٹیوب کری ایٹرز کو 100 ارب ڈالرز سے زائد رقم تقسیم کر چکا ہے۔

دوسری جانب، نیٹ فلکس نے بھی نوجوان اور بالخصوص بچوں کے ناظرین کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے یوٹیوب کے انتہائی مقبول شوز جیسے ‘کوکومیلن’ (Cocomelon) کے لائسنس اور برانڈز حاصل کرنا شروع کیے ہیں۔ اس معاشی و ٹیکنالوجی کشمکش نے دونوں عالمی اداروں کے درمیان ڈیجیٹل مواد کی بالادستی کے لیے ایک نئی معاشی جنگ کا آغاز کر دیا ہے۔