LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
لطف آباد میں گھر کی دوسری منزل پر پراسرار آتشزدگی، بیوہ ماں اور دو کمسن بیٹیاں جاں بحق، قتل کا شبہ اسرائیلی انتخابات: ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو اتحاد کی برتری، اکثریت سے دور شہباز شریف نے مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا حکومت اور پیپلز پارٹی مذاکرات کا دوسرا دور ختم، بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق سعودی سفیر کی خواجہ آصف سے ملاقات، دفاعی تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ سہیل آفریدی سمیت دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کا حکم نامہ جاری برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا

پاکستان میں پہلا ڈی پی آر پروگرام متعارف، جدید مالیاتی نظام کی جانب اہم پیش رفت

Web Desk

21 August 2026

اسلام آباد: مشیر وزیرِ خزانہ خرم شہزاد نے بتایا ہے کہ پاکستان نے عالمی سطح پر طویل مدتی فنانسنگ اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول کے لیے اپنا پہلا ڈائیورسفائیڈ پیمنٹ رائٹس (DPR) پروگرام باقاعدہ طور پر متعارف کروا دیا ہے۔اس تاریخی پہل کے تحت انٹرنیشنل فائنانس کارپوریشن (IFC – World Bank Group) اور بینک الفلاح کے درمیان ایک اہم پروجیکٹ معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں۔ اسلام آباد میں منعقدہ تقریب میں وفاقی وزیرِ خزانہ سناتور محمد اورنگزیب، آئی ایف سی کی ریجنل ڈائریکٹر مومنہ اعجاز الدین، بینک الفلاح کے صدر عاطف باجوہ اور دیگر اعلٰی حکام نے شرکت کی۔تفصیلات کا اشتراک کرتے ہوئے خرم شہزاد نے بتایا کہ ڈی پی آر پروگرام عالمی سرمایہ کاروں اور مارکیٹس سے غیر ملکی کرنسی میں طویل مدتی فنانسنگ حاصل کرنے کا ایک نیا اور جدید مالیاتی ماڈل ہے۔ اس پروگرام کے تحت ابتدائی مرحلے میں 100 ملین امریکی ڈالر تک کی مالی فنانسنگ فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اہم پیشرفت سے پاکستان کے مالیاتی ذرائع میں تنوع پیدا ہوگا، عالمی ادارہ جاتی و نجی سرمایہ کاروں تک ملکی رسائی میں اضافہ ہوگا اور پیداواری معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ یہ ماڈل دیگر تمام پاکستانی بینکوں کے لیے بھی عالمی کیپٹل مارکیٹس سے منسلک ہونے اور طویل مدتی سرمایہ حاصل کرنے کی ایک مضبوط اور نئی مثال قائم کرے گا۔